نارائن پیٹ میں پروگرام سے ضلع کلکٹر کا خطاب ، بروقت علاج کی تاکید
نارائن پیٹ ۔ 5 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع کلکٹر نارائن پیٹ شریمتی ایچ ایس پرینکا نے کہا کہ ماں کا دودھ صرف خوراک نہیں ہے بلکہ قدرت کی طرف سے بچے کو دی گئی پہلی حفاظتی ڈھال ہے۔ ضلع کلکٹر نے آج آئی سی ڈی ایس کی طرف سے جاجا پور ریتو ویدیکا، نارائن پیٹ منڈل میں منعقدہ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور شمع روشن کرکے پروگرام کا افتتاح کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے میں پیدا ہونے والا ہلکا دودھ کولسٹرم کہلاتا ہے اور اگرچہ بہت سے لوگ اسے عام دودھ سمجھتے ہیں لیکن یہ دراصل بچے کو دی جانے والی پہلی ویکسین کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دودھ میں ایسی خصوصیات ہیں جو بچے کی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہیں اور اسے کئی قسم کے انفیکشن سے بچاتی ہیں۔ لہذا ہر بچے کو پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر دودھ پلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دودھ پلانے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر سیزیرین ڈیلیوری کے بعد کچھ لوگ دودھ کی بوتلیں خریدنے یا بچے کو شہد اور دیگر مادے دینے کا مشورہ دیتے ہیں، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ سائنسی طور پر درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش اور دودھ پلانا قدرتی عمل ہے اور سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حمل کے دوران گھر والے ماں کی صحت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اکثر ماں کی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ دودھ پلانے والی مائیں غذا لینے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کے بتائے ہوئے آئرن اور کیلشیم کی گولیاں بھی لینا جاری رکھیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر حاملہ خاتون کو صحیح طریقے سے تعلیم دی جائے اور محفوظ ڈلیوری کے لیے رہنمائی کی جائے، اور ہر خاندان کو دودھ پلانے کی اہمیت کو سمجھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بروقت علاج سے ماں اور بچے دونوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک صرف ایک تقریب نہیں ہے بلکہ ہر بچے کو صحت مند بنانے کے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے ’’پہلے گھنٹے میں دودھ پلانا… صرف پہلے چھ ماہ تک دودھ پلانا… صحت مند ماں… صحت مند بچہ … صحت مند معاشرہ‘‘ کے پیغام کو ہر خاندان تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔اس پروگرام میں ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر (DWO) راجندر گوڑ، ڈپٹی ڈی ایم ایچ او سدپا، ڈی سی پی او کرشمہ، سی ڈی پی او وینکٹیشورما، کوٹاکونڈہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کے میڈیکل آفیسر، ایم ایل ایچ پیز، آشا ورکرز، آنگن واڑی عملہ، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور دیگر نے حصہ لیا۔