ایف آر بی ایم ایکٹ پر اسمبلی میں مختصر مباحث ، مذہبی جذبات بھڑکانے مرکز پر ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے مرکزی حکومت کے ایکٹ ایف آر بی ایم کے مسئلہ پر اسمبلی میں مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کا صرف نعرہ دیتی ہے ۔ مگر سب کے وناش اور ستیاناس کیلئے کام کرتی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کا 8 سالہ دور حکومت ناکامی ، زہر اور نفرت سے بھرا پڑا ہے ۔ جہاں پر ہر چیز کو ہندو مسلم کیا جارہا ہے ۔ جیسے ہولی ، رمضان ، شمشان گھاٹ ، قبرستان ، 80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد ، انڈیا اور پاکستان کرکے ملک میں مذہبی نفرت پھیلائی جارہی ہے ۔ تلنگانہ میں بجٹ منظوری کے بعد ایف آر بی ایم قانون میں ترمیمات کئے گئے ہیں جس سے تلنگانہ کو 15 ہزار کروڑ روپئے قرض کا نقصان ہورہا ہے ۔ 15 ویں فینانس کمیشن نے مرکز کو ریاستوں پر مشتمل ہائی پاور کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے مستقبل کے فیصلے کرنے کی تجویز پیش کی تھی مگر مرکزی حکومت نے 15 ویں فینانس کمیشن کی تجویز کو نظر انداز کردیا اور ہائی پاور کمیٹی تشکیل دیئے بغیر اصلاحات کیے ، مرکز بھی بڑے پیمانے پر قرض حاصل کررہی ہے مگر اس پر کوئی تحدیدات نہیں ہیں ۔ صرف ریاستوں کے حصول قرض پر تحدیدات عائد کرکے یکطرفہ فیصلہ کیا گیا ۔ زرعی باؤلیوں اور بورویلز پر برقی میٹرس لگانے پر ایف آر بی ایم میں 0.5 فیصد قرض حاصل کرنے کی گنجائش فراہم کرنے کا لالچ دیا گیا ۔ ہم نے مرکز کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے تلنگانہ کو سالانہ 6268 کروڑ روپئے قرض سے محروم ہونا پڑرہا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ٹیکس کے علاوہ دوسرے زیر التواء فنڈز کی اجرائی میں مرکز ‘ تلنگانہ سے سوتیلا سلوک کررہاہے ۔ ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ مرکز تلنگانہ کو باقی ہے ۔ یہ تلنگانہ عوام کا حق ہے ۔ بی جے پی قائدین ریاست کو مرکز سے لاکھوں کروڑ روپئے ادا کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ مرکز ریاست کو جتنا ٹیکس ادا کررہی ہے اُس سے دو گنا فنڈز ریاست مرکز کو ادا کررہی ہے ۔ ریاست سے موصول فنڈز کو مرکزی حکومت دوسری ریاستوں میں استعمال کررہی ہے ۔ مرکزی حکومت ٹیکسوں میں ریاستوں کی حصہ داری 32 فیصد بڑھا کر 42 فیصد ادا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے مگر یہ ایک حسین دھوکہ ہے ۔ سیس کے نام پر بھاری رقم وصول کررہی ہے جس سے ریاستوں کو محروم رکھا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کو ٹیکسوں میں صرف 29.6 فیصد کی حصہ داری ملی ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے تلنگانہ میں ہر پیدا ہونے والے بچہ پر 1.25 لاکھ کا قرض ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ دراصل یہ قرض مرکز کی جانب سے حاصل کردہ ہے ملک کا ہر شہری 1.25 لاکھ روپئے کا مقروض ہے جب کہ تلنگانہ کا ہر شہری 74 ہزار روپئے کا مقروض ہے ۔ کانگریس قائد مقننہ ملوبٹی وکرامارک ‘ بی جے پی رکن اسمبلی رگھونندن راؤ ٹی آر ایس رکن اسمبلی ویویکانندا نے بھی مباحثہ میں حصہ لیا ۔۔ ن