مرکز کے فوجداری قوانین میں ترمیم حکومت کے زیرغور : سریدھر بابو

   

محکمہ قانون سے رپورٹ طلب، سائبر جرائم سے نمٹنے کیلئے عنقریب قانون سازی، تحت کی عدالتوں میں 8 لاکھ مقدمات زیرالتواء
حیدرآباد 2 اگست (سیاست نیوز) وزیر اُمور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے نئے فوجداری قوانین کے تلنگانہ میں نفاذ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تلنگانہ عوام کی ضرورتوں اور قانون کو انصاف رسانی پر مبنی بنانے کے لئے ضرورت پڑنے پر ترمیمات کی جائیں گی۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں سیول کورٹس ترمیمی بل کی پیشکشی کے بعد ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سریدھر بابو نے کہاکہ ٹاملناڈو، کرناٹک اور مغربی بنگال نے مرکزی قوانین میں جس طرح ریاستوں کی سطح پر ترمیم کی، اُسی طرح تلنگانہ حکومت بھی عنقریب کوئی فیصلہ کرے گی۔ ترمیمی بل کے ذریعہ ریاست میں جونیر سیول کورٹس کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت مرکزی قوانین کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔ سیول لبرٹیز کے نمائندوں اور ماہرین قانون سے مشاورت کی جائے گی۔ محکمہ قانون کو اِس بات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے کہ مرکزی قوانین عوام کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہیں۔ اُنھوں نے تیقن دیا کہ تلنگانہ عوام کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکزی فوجداری قوانین کے بارے میں جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ سائبر جرائم کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر حکومت نے نیا قانون وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سائبر جرائم پر قابو پایا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ نئے قانون کے تحت سائبر جرائم کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ سیول کورٹ ترمیمی قانون کا مقصد تحت کی عدالتوں بالخصوص جونیر سیول ججس کی سطح پر زیرالتواء مقدمات کی تعداد کو کم کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ موجودہ قانون میں ترمیم کے ذریعہ مقامی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست میں 30 فاسٹ ٹریک کورٹس موجود ہیں جہاں عصمت ریزی جیسے معاملات میں جلد فیصلے کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جہاں ضرورت ہو وہاں مزید فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کئے جائیں گے۔ اگریکلچر یونیورسٹی کی 100 ایکر اراضی ہائیکورٹ کی نئی عمارت کیلئے مختص کرنے کی کے ٹی آر کی جانب سے مخالفت پر سریدھر بابو نے کہاکہ سابق حکومت نے اراضی منظور کی تھی اور کانگریس نے صرف اراضی میں اضافہ کیا ہے۔ 100 ایکر اراضی کے علاوہ 1000 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ مقامی عدالتوں میں 8 لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتواء ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت کی طرح عوامی تنظیموں کو احتجاج کی اجازت نہ دینے سے متعلق شکایات پر ریاستی وزیر نے کہاکہ کانگریس حکومت بی آر ایس کے نقش قدم پر نہیں چلے گی۔ جمہوری انداز میں احتجاج کی اجازت دی جائے گی۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ امن و ضبط کی صورتحال کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مقامی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع سے متعلق بل کو بی آر ایس، بی جے پی، مجلس اور سی پی آئی کی تائید سے منظور کرلیا گیا۔ 1