SIR مہم کو شفاف اور آسان بنایا جائے، جماعت اسلامی ہند کے قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے ملک میں مساجد کو نشانہ بناکر انہدامی کارروائیوں کو انتہائی شرمناک قرار دیا اور کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں مساجد کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے منہدم کیا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی کے قومی نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر اور قومی جنرل سکریٹری مولانا شفیع مدنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مساجد کے انہدام کا جائزہ لینے کے لئے جیسلمیر، جودھ پور اور باڑ میر علاقوں کا دورہ کرچکا ہے۔ ان علاقوں میں مسلم خاندانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بلڈوزر کارروائیاں کی گئیں۔ مولانا شفیع مدنی نے مساجد، مکانات اور کمزور طبقات کی آبادیوں کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی مذمت کی۔ راجستھان، اترپردیش، مہاراشٹرا، گجرات، دہلی اور دیگر سیاستوں میں حالیہ واقعات تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر کارروائیوں کا نشانہ مساجد، مکانات اور معاشی طور پر کمزور طبقات بن رہے ہیں۔ صرف ایک ماہ کے دوران کئی مساجد کو منہدم یا جزوی طور پر مسمار کیا گیا۔ راجستھان کے سرحدی اضلاع باڑ میل، جیسلمیر اور بیکانیر میں سیکوریٹی کے نام پر کارروائیوں کے دوران مساجد، درگاہوں اور مدارس کو منہدم کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں مقامی عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ مساجد کو فرقہ وارانہ بنیاد پر نشانہ بنانا ملک کے لئے شرمناک ہے۔ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔ دورہ کے موقع پر وفد نے کئی ایسے معاملات کی سماعت کی جہاں یکطرفہ طور پر مذہبی عمارتوں اور رہائشی مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد اور درگاہوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ علاقہ میں دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں۔ مساجد کے انہدام کے خلاف جماعت اسلامی نے قانونی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ راجستھان میں غیر مسلم افراد اور جہدکاروں نے انہدامی کارروائی مذمت کی۔ SIR کے تحت دہلی، کرناٹک، مہاراشٹرا، جھارکھنڈ اور میگھالیہ میں بے قاعدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل شفافیت پر مبنی ہونا چاہئے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ مختلف ریاستوں میں بڑی تعداد میں ناموں کو حذف کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر کے عمل کو شفاف اور آسان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ جماعت اسلامی نے مہاراشٹرا، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کو کمزور کرنے کی مہم کی مذمت کی۔ 1؍F