مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے چینلس پر 50 لاکھ کا جرمانہ 

نئی دہلی : کیرالا کے کوزی کوڈکی ذیلی عدالت نے سدرشن ٹی وی کو فرضی خبر نشر کر نے کے جرم میں 50لاکھ روپے بطور معاوضہ متاثرہ فریق کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ سدرشن ٹی وی اپنی اشتعال انگیزی میں مشہور ہے ۔ سیکولر ذہن افراد کا خیال ہے کہ اشتعال انگیز خبروں پر لگام لگانے کیلئے عدالت کا یہ فیصلہ معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مالابار گولڈ ڈائمنڈ کمپنی کے مالک ایم پی احمد نے دہلی میں واقع سدرشن ٹی وی اور اس کے ایڈیٹر سریش چوہان کے خلاف فرضی خبریں پھیلانے کے لیے ہتک عزت کا مقدمہ درج کروایا تھا ۔ اس معاملہ کی سماعت کے دوران جج آر راجیش نے منگل کو سدرشن ٹی وی کو معاوضہ کے طور پر 50لاکھ روپے مالابار گولڈ کو دینے کا فیصلہ سنایا ۔ واضح رہے کہ مالا بار گولڈ نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ سدرشن ٹی وی نے ایک فرضی ’’ کمپیا کٹ ڈسک ‘‘ کے مناظر کو نشر کر کے کمپنی کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ڈسک میں دکھایا گیا تھا کہ پاکستان کے یوم آزادی کے مو قع پر دبئی میں واقع ایک فینانشل کمپنی کی طرف سے تقریب منعقد کی گئی ۔

لیکن سدرشن ٹی وی نے ا س پروگرام کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے یہ تقریب مالا بار گولڈ کی جانب سے چینائی میں منعقد کی گئی ۔ ٹی وی نے یہ پروگرام ۲۰؍ اگست کو نشر کیا تھا ۔ جس کے بعد کمپنی او راس کے ڈائریکٹر احمد نے یہ الزام عائد کیا کہ سدرشن ٹی وی نے مالا بار گولڈ کی ساکھ کو ند نام کرنے کیلئے کاروباری حریفوں کے اشارے پر فرضی خبر نشر کی ۔ جرمانے کے فیصلہ پر بات کرتے ہوئے کمپنی ڈائریکٹر ایم پی احمد نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ مالابار گولڈ کی تصدیق کرتا ہے اور یہ انصاف کی فتح ہے ۔

TOPPOPULARRECENT