مسلم خواتین فیصلہ کریں کہ وہ اپنی نسلوں کو مزدور بنائیں گی یا حاکم : پیس پارٹی

   

پرتاپ گڑھ: مسلمانوں کے ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس ،سماج وادی پارٹی و بی ایس پی نے مسلمانوں کو صرف سیاسی غلام بنایا ، اقتدار و ریزرویشن میں حصہ داری و ترقی دینے کے برعکس اپنی سیاسی پارٹی میں کچھ مسلم سیاسی ایجنٹ بنایا، ووٹ تو انہوں نے مسلمانوں کا صد فیصد حاصل کیا ،مگر فائدہ اپنے سماج کے آٹھ سے دس فیصد ووٹ دینے والوں کو پہنچایا ،مسلمان کو تو صرف مزدور بنایا ،فیصلہ اب مسلم خواتین پر ہے کہ وہ ووٹ کانگریس ،سماج وادی پارٹی و بی ایس پی کو دے کر اپنی نسلوں کو سیاسی غلام و مزدور بنائیں گی ،یا اپنی پارٹی پیس پارٹی کو ووٹ دے کر اپنا مستقبل روشن و اپنی نسلوں کو حاکم بنائیں گی ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے مسلمانوں کے تئیں سیاسی پارٹیوں کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کو مسلمانوں نے ایوان تک پہونچایا ،مگر افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے کانگریس اقتدار میں وزیر قانون رہتے ہوئے دلت مسلمانوں کو 1950 میں ریزرویشن سے محروم کر دیا ،اور آزادی کے بعد مسلمانوں کے ووٹوں سے سات مرتبہ تک زیر اقتدار کانگریس پارٹی نے دلت مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔ کانگریس نے اپنی فرقہ پرست پالیسی کے تحت ملک کے 20 % فیصد مسلمانوں کو سرکاری ملازمت میں دو فیصد پر لاکر محدود کر دیا ، بقیہ کو مزدور بنا دیا ۔ چار ۔ چار مرتبہ سماج وادی پارٹی و بی ایس پی کو اقتدار تک پہونچانے والے مسلمانوں کو مستفیدنہیں کیا۔