سنجے راوت کا امریکی صدر کو کھلا خط سو شل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس ‘ پر جاری
ممبئی ، 8 مئی (یو این آئی) شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک کھلا خط لکھتے ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو دی گئی مبینہ مبارکباد پر سوال اٹھایا ہے ۔ سنجے راوت نے یہ خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری کیا اور براہ راست ڈونالڈ ٹرمپ سے خطاب کیا۔ خط میں انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات ایک ریاستی سطح کا انتخاب تھا اور یہ ہندوستان کے وفاقی جمہوری نظام کا داخلی معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی شخصیت کی جانب سے اس نوعیت کی توثیق “قبل از وقت اور غیر موزوں” محسوس ہوتی ہے ۔ شیوسینا رہنما نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ پولنگ کے دوران خوف، دھمکی اور منظم دباؤ کا ماحول پیدا ہونے سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے ۔ مسٹر راوت نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر یہ تاثر پایا جا رہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کیا اور اس کا طرز عمل بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں دکھائی دیا، جس سے ادارہ جاتی غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہوئے ۔ انہوں نے انتخابات کے دوران مرکزی فورسیز کی تعیناتی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں کا ماننا تھا کہ اس سے ووٹروں میں اعتماد پیدا ہونے کی بجائے دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ مسٹر سنجے راوت کے مطابق مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت کئی سینئر رہنماؤں نے بھی انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر عوامی طور پر سوالات اٹھائے تھے ، جو ان کے بقول عوامی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے ۔ خط میں راوت نے لکھا کہ جمہوریت صرف انتخابات کرانے کا نام نہیں بلکہ انتخابات کا آزاد، منصفانہ اور قابل اعتماد ہونا بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مبارکباد کا بیان جاری کرنے سے پہلے کیا ان تمام خدشات پر غور کیا گیا تھا۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی جمہوریت سے متعلق پیش رفت پر زیادہ متوازن اور باخبر نقطئہ نظر اختیار کریں۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد جاری سیاسی ردعمل کے درمیان یہ خط سامنے آیا ہے ، جہاں اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔ سنجے راوت کے بیان کے بعد انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ سے متعلق سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے ۔