مقبوضہ مغربی کنارے کو چھوڑ کر ہم کہیں نہیں جائیں گے: اسرائیلی وزیر

   

تل ابیب اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ ہم مغربی کنارے میں موجود رہیں گے اور اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ سموٹریچ نے ان خیالات کا اظہار مغربی کنارے کے دورے کے موقع پر منگل کے روز کیا ہے۔سموڑیچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ناجائز یہودی بستیوں کے قیام اور تعمیر کا دفاع کیا۔واضح رہے یہ ناجائز یہودی بستیاں اقوام متحدہ کی قرادادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل نے لاکھوں یہودیوں کو دوسرے ملکوں سے لا کر مقبوضہ علاقے میں ناجائز طور پر آباد کر دیا ہے۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے بھی ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔انتہا پسند وزیر خزانہ نے کہا ‘یہودیا اور سماریہ کے علاقے ہماری بائبل میں لکھے گئے نام ہیں۔ اس لئے یہ ہمارا وطن ہے۔ ہمیں یہاں رہنا ہے اور اسے چھوڑ کر نہیں جانا۔انہوں نے اس کا ذکر کیا کہ 2024 کا سال فلسطینیوں کی تعمیرات اور مکانات کو تباہ کرنے کا ریکارڈ سال رہا ہے۔
یاد رہے اسرائیل ان فلسطینی تعمیرات کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ جبکہ اسرائیلی حکومت یہودیوں بستیوں کی یہودا اور سماریہ کے علاقوں میں تعمیرات کے لیے کام کر رہی ہے۔بذالیل سموٹریچ نے کہا ‘یہودی آبادکار دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں۔ یہ اسرائیلی سیکیورٹی سے متعلق ضمانتوں کے حقدار ہیں۔ ‘اسرائیلی وزیر خزانہ بذلایل سموٹریچ اور اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کی مشترکہ ویڈیو میں کاٹز نے کہا ‘یہودیا اور سماریہ کو پہنچائے جانے والے کسی بھی نقصان کی کوشش کو اسرائیل روکے گا۔’خیال رہے سموٹریچ نے نومبر 2024 میں کہا تھا ‘سال 2025 میں اسرائیل مغربی کنارے میں یہودی بستیوں پر اپنی خودمختاری میں توسیع کرے گا۔’ نیز منگل کے روز سموٹریچ نے یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے انقلاب کا ایک ‘سٹریٹیجک ٹول’ کے طور پر ذکر کیا۔