ملک کے 84 فیصد اضلاع گرمی کی شدت ، لو اور گرم ہواؤں کا شکار

   

70 فیصد اضلاع میں ہنوز گرمی ، موسمی تبدیلی سے ماحولیاتی تبدیلیاں ، ابھیناش موہنتی
حیدرآباد۔7۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) ہندستان میں گرمی کی شدت میں ہونے والے اضافہ کے علاوہ لو اور گرم ہواؤں کا شکار ہونے والے اضلاع 84 فیصد ریکارڈ کئے جار ہے ہیں جبکہ 70فیصد اضلاع میں بتدریج گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ بارشوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ آزادانہ موسمی تحقیق اور جانکاری جمع کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی تحقیق میں اس بات کا دعویٰ کیاگیا ہے کہ ہندستان کے بیشتر اضلاع میں گرمی کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور موسم گرما میں توسیع بھی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ جون تا ستمبر کے دوران بھی گرمی کی شدت کا کئی مرتبہ احساس ہورہا ہے۔ مسٹر ابھیناش موہنتی نے بتایا کہ نئی تحقیق اور مطالعہ کے مطابق ہندستانی اضلاع میں موسمی تغیرات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جار ہاہے کہ ملک کے بیشتر اضلاع میں موسمی تبدیلی کے نتیجہ میں ماحولیاتی تبدیلیاں بھی ریکارڈ کی جانے لگی ہیں۔ منیجنگ مانسون ان وارمنگ کلائمیٹ کے عنوان سے کی گئی تحقیق جو کہ انڈیپنڈینٹ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ‘ آئی پی ای گلوبل لمیٹڈ اینڈ اسری انڈیا ٹکنالوجی کے اشتراک سے کئے گئے مطالعہ کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے۔ مسٹر ابھیناش موہنتی ہیڈ آف کلائمیٹ چینج نے بتایا کہ ان کے ماہرین کی جانب سے کئے گئے مطالعہ کے مطابق 2036 تک ہندستان کے بیشتر اضلاع میں بلکہ ملک کے بیشتر حصہ میں انتہائی شدید موسمی تبدیلی کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور اگر اس امکانی صورتحال میں اگر 10 نمبر میں شدت کا اظہار کرنا ہوتو ان کے ماہرین نے 8 نمبرات دیئے ہیں جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اس مطالعاتی رپورٹ میں ملک کے مختلف مقامات بالخصوص شمالی ہند میں پیدا ہونے والی صورتحال کے علاوہ صحرائی اضلاع اور پہاڑی اضلاع میں پیدا ہونے والی موسمی شدت میں گذشتہ 10برسوں کے دوران ریکارڈ کئے گئے اضافہ اور آئندہ 10 برسوں کے دوران ہونے والے امکانی اضافہ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اس پر قابو پانے کے سلسلہ میں درکار اقدامات کا بھی تذکرہ کیاگیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر ماحولیاتی اور موسمی تبدیلی کے سلسلہ میں فوری اقدامات کا آغاز نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں آئندہ مزید شدید موسموں بالخصوص شدید گرمی اور شدید بارشوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔3