منچریال 3 ڈسمبر (سیاست نیوز) زائداز دو ہفتوں سے بیلم پلی اور چنور ڈیویژنس کے جنگلات میں K-12 نام کے ایک شیر کے گھومنے سے دیہی عوام اور محکمہ جنگلات کے عہدیدار خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ جنگلات کے عہدیداروں کو شبہ ہے کہ اس شیر کو شکاریوں کے لگائے گئے پھندے سے خطرہ کا سامنا ہے۔ یہ شیر سمجھا جاتا ہے کہ چند ہفتے پہلے کمرم بھیم آصف آباد ڈسٹرکٹ میں پڑوسی جنگلات سے اس علاقہ کے جنگل میں گھوم رہا ہے۔ اس نے حال میں کوشنے پلی میں دو بیلوں پر حملہ کرنے کے بعد کوٹاپلی فاریسٹ رینج میں ایک گائے کو ہلاک کردیا۔ جنگلات میں شیر کے گھومنے کی وجہ رامپور، خرجی، بھیم پور، گیریولی اور دیگر کئی جنگل سے متصل دیہاتوں میں چرواہوں اور دیہاتیوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم ماحولیات کے ماہرین نے ان دو ڈیویژنس میں شیر کی سیفٹی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک ٹائیگر کنزرویشن ایکٹیوسٹ نے کہاکہ ’’موسم سرما کے دوران شکاری جنگل کے کنارے ہرن، جنگلی سور اور بکروں کو ہلاک کرنے کے لئے برقی پھندے لگاتے ہیں۔ اس طرح کے پھندوں سے علاقائی جانوروں جیسے شیروں کو خطرہ لاحق رہتا ہے‘‘۔ انھوں نے