منگوڑ میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے کی سودے بازی

   

سرپنچس اور ایم پی ٹی سی کو فی کس 20 لاکھ کا آفر ، اڈوانس میں 10 لاکھ روپئے کی ادائیگی ، 90 فیصد کانگریس خالی
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی حلقہ منگوڑ کے ضمنی انتخاب کے لیے پارٹی قائدین کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ زوروں پر جاری ہے ۔ سودے بازی عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ مقامی عوامی منتخب نمائندے اور قائدین کو پارٹی کے اہم قائدین کے گھروں کو لے جا کر کھنڈوا پہنانے کا عمل روز کا معمول بن گیا ہے جس سے پارٹی سے انحراف کرنے والے قائدین کا ڈیمانڈ آسمان کو چھو رہا ہے ۔ کانگریس ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی نے منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کو وقار کا مسئلہ بنادیا ہے ۔ جس سے مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے عوامی منتخب نمائندوں کے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ سابق رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی ٹی آر ایس کے مقامی عوامی منتخب نمائندوں کو بی جے پی میں شامل کرنے کے لیے خصوصی حکمت عملی کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ چند قائدین کے پارٹی سے انحراف کرنے کی ٹی آر ایس قائدین کو اطلاع ملنے کے بعد ٹی آر ایس نے اپنے قائدین پر دباؤ بنایا جس پر بی جے پی نے 21 اگست کو منعقد ہونے والے امیت شاہ کے جلسہ عام کا انتظار کئے بغیر پارٹی میں دوسری جماعتوں کو شامل کرنے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے صدر نشین ایٹالہ راجندر کی موجودگی میں ان ٹی آر ایس کے قائدین کو بی جے پی میں شامل کرلیا ۔ انہیں فی کس 20 لاکھ روپئے دینے کا معاہدہ کیا گیا ۔ بی جے پی میں شامل ہونے والے ٹی آر ایس کے 10 مقامی عوامی منتخب نمائندوں کو بی جے پی میں شامل ہوتے ہی ایک خفیہ مقام پر انہیں فی کس 10 لاکھ روپئے کے حساب سے ایک کروڑ روپئے اڈوانس میںادا کردینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ اس کے علاوہ کانگریس کے عوامی منتخب نمائندوں کو اپنے ساتھ بی جے پی میں شامل کرنے کی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے پہلے سے ساری تیاریاں کرلی ہیں ۔ دوسری جانب ریاستی وزیر برقی جگدیش ریڈی اسمبلی حلقہ منگوڑ میں قیام کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے ناراض قائدین کو منانے کے ساتھ دوسری جماعتوں کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سرپنچس ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے ارکان سودے بازی پر اتر آئے ہیں ۔ پارٹی تبدیل کرنے کے لیے 50 لاکھ روپئے کا ڈیمانڈ کررہے ہیں ۔ سامنے والی پارٹی سے اتنا ہی آفر ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کے لیے ایک سرپنچ اور ایک ایم پی ٹی سی رکن نے فی کس 10 لاکھ روپئے اور دو دلت بندھو یونٹس حاصل کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کا علم ہوا ہے ۔ گذشتہ 10 دن کے دوران کانگریس کے 10 سرپنچس اور 7 ایم پی ٹی سی ارکان ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ اس طرح 6 ٹی آر ایس کے سرپنچس بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ۔ آئندہ آنے والے دنوں میں مزید قائدین کے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں سب سے زیادہ کانگریس سے وفاداریاں تبدیل ہورہے ہیں ۔ کانگریس کے امیدوار کا ہنوز کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کے 90 فیصد مقامی منتخب عوامی نمائندے یا تو پارٹی تبدیل کرتے ہوئے بی جے پی یا ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں ماباقی سودے بازی میں مصروف ہے ۔ کانگریس کے ایک قائد نے بتایا کہ کانگریس کے منتخب عوامی نمائندے کانگریس کے قائدین سے رجوع ہو کر کہہ رہے ہیں کہ سامنے والی پارٹیاں بڑا آفر دے رہی ہیں کانگریس میں رہنے کے لیے کانگریس پارٹی کیا دے گی ؟ ۔۔ ن