H1B ویزا کے حامل ہندوستانیوں کو فائدہ ہوگا، اعلیٰ ڈگری والے ورکرز کیلئے بھی مواقع
واشنگٹن : ہندوستانی شہریوں کے امریکہ میں کام کرنے کے لیے بائیڈن انتظامیہ چند سہولیات متعارف کرانے جا رہی ہے تاکہ ہنرمند افراد کے داخلے اور وہاں رہنے کا مرحلہ آسان بنایا جا سکے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ ممکنہ طور پر پیر کو اس حوالے سے اعلان کرے گا جس کے بعد چند انڈین شہریوں اور ایچ ون بی ویزا پر آنے والے غیرملکی کارکن امریکہ میں رہتے ہوئے ہی اپنا ویزہ تجدید کروا سکیں گے۔ذرائع کے مطابق آئندہ سالوں میں اس پروگرام کو مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی چار روزہ دورے پر امریکہ میں موجود ہیں جہاں وہ کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔امریکہ کے لیےH1B ویزا پروگرام کا سب سے زیادہ فائدہ انڈین شہریوں نے اٹھایا ہے۔ مالی سال 2022 کے دوران اس ویزا پر آنے والے 4 لاکھ 42 ہزار ورکرز میں سے 73 فیصد انڈین شہری تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پائلٹ پروگرام کے آغاز کی تاریخ سے متعلق تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تھوڑی تعداد میں کیسز پر اس کا اطلاق ہوگا اور اگلے ایک یا دو سالوں میں اس پروگرام کو آگے بڑھائیں گے۔ترجمان کے مطابق عارضی غیرملکی ورکرز کے لیے امریکہ میں ہوتے ہوئے ویزا تجدید کرانے کی سہولت سے مختلف ممالک میں قائم امریکی قونصلیٹ پر بھی کام کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ہر سال امریکی حکومت ہنرمند ورکرز کی تلاش میں کمپنیوں کو 65 ہزار ایچ ون بی ویزے فراہم کرتی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی اعلیٰ ڈگری رکھنے والے ورکرز کے لیے بھی اضافی 20 ہزار ویزی جاری کیے جاتے ہیں۔ابتدائی طور پر یہ ویزا تین سال کے لیے جاری ہوتا ہے جو آئندہ تین سالوں کے لیے تجدید کروایا جا سکتا ہے۔امریکی حکومت کے ڈیٹا کے مطابق حالیہ برسوںمیں ایچ ون بی ویزا کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں انڈین انفوسس اور ٹاٹا کسلٹینسی سروس کے علاوہ امریکی کمپنی ایمازون، ایلفابیٹ اور میٹا شامل ہیں۔امریکہ کی جانب سے ممکنہ طور پر متعارف ہونے والے پائلٹ پروگرام میں ایل ون ویزا بھی شامل ہوگا جس کے تحت کسی اور ملک میں کام کرنے والی کمپنی اپنے اہلکار کو امریکہ آسانی سے ٹرانسفرکر سکے گی۔ایک اور ذرائع نے بتایا کہ انڈیا میں امریکی سفارتخانے اور قونصلیٹ میں جمع شدہ ویزہ ایپلی کیشنز پر تیزی سے کام کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔انڈین حکومت شہریوں بالخصوص ٹیکنالوجی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والوں کے لیے امریکی ویزا کے حصول میں مشکلات پر تشویس کا اظہار کرتی رہی ہے۔بائیڈن انتظامیہ انڈین شہریوں کے لیے ویزا کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے کئی ماہ سے کام کر رہی ہے۔صدر بائیڈن کی کوشش ہے کہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کوقریب لایا جا سکے۔
ہندوستان میں امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں: مودی
امریکی میڈیا کے سوال پر وزیر اعظم کا جواب
واشنگٹن :وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کے لئے زبردست احترام رکھتے ہیں کیونکہ جمہوریت ہیں اور جمہوری اداروں کو وسعت دینا امریکہ اور ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے۔مشترکہ بیان کے بعد ایک امریکی رپورٹر کی طرف سے مذہبی اقلیت اور اختلاف رائے کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان میں ذات پات، نسل، مذہب، جنس سے قطع نظر، امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق22جون کو رات 3:11بجے مودی اور بائیڈن کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی ۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ایک سوال امریکی پریس سے اور ایک ہندوستانی صحافی سے پوچھا جائے گا۔ جمعرات کو ہونے والی بریفنگ کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں کہ وزیر اعظم ہند مودی دورے کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اہم ہے اور خوشی کا موقع ہے ۔ یہ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مودی نے میڈیا سے سوالات لینے سے بھی اتفاق کیا ہے۔ مودی نے 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد سے ہندوستان میں ایک بھی پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کیا۔ مئی 2019 میں، انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی لیکن میڈیا سے کوئی سوال نہیں لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں نجی تقریب میں مودی اور
بائیڈن کے درمیان ’اہم بات چیت‘
واشنگٹن: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ امریکہ کے دوسرے مرحلے میں چہارشنبہ کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک نجی تقریب کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن کے ساتھ ‘‘کئی موضوعات پر اہم پر بات چیت’’ کی۔ امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے وزیر اعظم مودی کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مودی نے امریکی خاتون اول بائیڈن کو 7.5 کیرٹ لیب سے تیار کیا ہوا ہیرا تحفہ میں دیا۔ مودی نے بائیڈن کو صندل کا ایک خصوصی باکس پیش کیا۔ جسے جے پور، راجستھان کے ایک کاریگر نے بنایا تھا۔ چندن کی لکڑی کرناٹک کے میسور سے لائی گئی تھی اور اسے خوبصورتی سے نقش کیا گیا ہے ۔ مودی نے امریکی صدر کو اپنشدوں پر مبنی کتاب – ‘دی ٹین پرنسپل اپنشد’ پیش کی۔ انگریزی میں یہ پرانی کتاب پروہت سوامی اور ڈبلیو بی اٹس نے لکھی ہے اور اس کا پہلا ایڈیشن 1937 میں فیبر اینڈ فیبر لمیٹڈ، لندن نے شائع کیا تھا۔اس موقع پر صدر بائیڈن نے ولیم بٹلر اٹس کی نظموں سے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا۔اٹس ہندوستان کے پرستار تھے ۔وزیر اعظم مودی نے ذاتی گفتگو کے بعد ایک ٹویٹ میں اپنے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا ‘‘میں آج وائٹ ہاؤس میں ہوں۔ میری میزبانی کے لیے صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن کا شکریہ۔ ہم نے کئی موضوعات پر اہم بات چیت کی۔ایک ٹویٹ میں، وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا ‘‘وزیراعظم نریندر مودی، امریکی صدر جو بائیڈن، ڈاکٹر جل بائیڈن اور خاندان کے ایک نجی تقریب میں شرکت کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے ۔