’مہاراشٹرا میں اردو افسانہ اکیسویں صدی میں‘ کے عنوان سے سمینار

   

ممبئی: مہاراشٹرا کے افسانہ نگاروں نے معاشرے کو درپیش مسائل ،اصلاح و بیداری مہم کواپنی تخلیقات میں بہترانداز میں پیش کیا،اس کا اظہار مشہور افسانہ نگار اور ادیب اسلم پرویز نے کیا۔اسلم پرویز آج یہاں ‘مہاراشٹرا میں اردو افسانہ اکیسویں صدی میں’ کے عنوان سے یکروزہ ریاستی سمینارشعبئہ اردو، ممبئی یونیورسٹی اور مہاراشٹرا اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکاڈمی کے اشتراک سے منگل کی صبح آئی سی ایس ایس آر کانفرنس ہال، جے پی نائک بھون، ممبئی یونیورسٹی، منعقد کیا گیا،اس موقع پر اسلم پرویز نے کہاکہ مہاراشٹرا میں ایسے افسانہ نگاروں کی ایک طویل فہرست ہے ،جنہوں نے اپنے آس پاس پیش آنے والے واقعات اور وارداتوں کو اپنے قلم کے زور سے ارباب اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کی مذکورہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی،اس کی پرواہ نہیں کی جاتی ہے ،اس لیے انہیں رہنمائی کہہ سکتے ہیں۔جس کی بنیاد پر معاشرے کی خامیوں کو پیش کرتے ہیں۔کافی بے باکی اور بلا خوف مہاراشٹرا کے افسانہ نگاروں کی افسانہ نگاری پر نکتہ چینی کی اور کہاکہ ان افسانوں میں مطالعہ کی کمی واضح نظر آتی اور کہیں کہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ ان معاملات پر بات کرنے کی چند ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں ، افسانے کی ٹکنیک پر بھی اس لیے بات کرنا نہیں چاہیں گے ۔