مہاراشٹرا میں سرکاری پینل نے بھی سہ لسانی پالیسی کی مخالفت کردی

   

ممبئی۔29؍جون (ایجنسیز)مہاراشٹرا میں ہندی کی مخالفت میں اس وقت شدت آگئی جب حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایک مشاورتی کمیٹی نے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس پر زور دیا ہے کہ وہ پرائمری کلاسوں میں زبان کو متعارف کرانے کے فیصلے کو واپس لے لیں۔ لینگویج ایڈوائزری کمیٹی جو کہ مراٹھی زبان سے متعلق معاملات پر حکومت کو سفارشات پیش کرتی ہے نے جمعہ کو ایک قرارداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندی سمیت کوئی بھی تیسری زبان کلاس 5 سے پہلے نہیں پڑھائی جائے۔ میٹنگ کے دوران مراٹھی زبان کے محکمہ کے سکریٹری کرن کلکرنی بھی موجود تھے۔مہاراشٹرا میں زبان کا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ریاستی حکومت نے حال ہی میں ایک ترمیم شدہ حکم جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مراٹھی اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں پہلی سے پانچویں جماعت کے طلباء کو عام طور پر تیسری زبان کے طور پر ہندی پڑھائی جائے گی۔ حکم کے مطابق اگر ایک اسکول میں فی گریڈ 20 طلباء کوئی دوسری ہندوستانی زبان پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ ہندی کو چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر ایسا کوئی مطالبہ سامنے آتا ہے تو کسی ٹیچر کا تقرر کیا جائے گا یا پھر آن لائن زبان پڑھائی جائے گی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے، کمیٹی کے چیئرمین لکشمی کانت دیش مکھ نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی حمایت یافتہ تنظیم نے حکومتی فیصلے کے خلاف اس طرح کا موقف اختیار کیا ہے۔ ہم ہندی یا کسی دوسری زبان کے خلاف نہیں ہیں لیکن ابتدائی اسکولنگ میں اسے مسلط کرنا نہ تو تعلیمی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی ثقافتی طور پر مناسب ہے۔ ابتدائی سالوں میں مادری زبان پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔