گودی میڈیا پر نفرت انگیز مہم ، پولیس اور ٹاٹا کنسلٹنسی نے تبدیلی مذہب کے الزامات کی تردید کی
حیدرآباد ۔20۔ اپریل (سیاست نیوز) فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے ناسک کے ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس کے مسلم ملازمین کے خلاف کارپوریٹ جہاد کی سازش بے نقاب ہوچکی ہے۔ مسلم ملازمین کو بدنام کرتے ہوئے کارپوریٹ اداروں میں ملازمت سے روکنے کی سازش کے تحت جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا، اس کی گودی میڈیا کی جانب سے بڑے پیمانہ پر تشہیر کے باوجود تحقیقات میں مسلم ملازمین کے خلاف الزامات جھوٹے ثابت ہوئے ۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس کی ہندو خاتون ملازمین کو مسلمانوں کے خلاف پولیس میں شکایت کے لئے اکسایا گیا۔ کارپوریٹ جہاد کے ماسٹر مائینڈ کے طور پر کمپنی کی سینئر ملازم ندا خاں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ گودی میڈیا نے ندا خاں کے خلاف جس انداز میں نفرت انگیز مہم چلائی ، باوجود اس کے سوشیل میڈیا میں انصاف پسند افراد کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے ۔ ندا خاں کو کمپنی نے ایچ آر مینجر بتایا گیا جبکہ کمپنی نے خود اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ ایچ آر مینجر کوئی ہندو شخص ہے جبکہ ندا خاں ٹیلی کالر اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ جس وقت یہ تنازعہ کھڑا کیا گیا ، اس وقت ندا خاں ناسک میں نہیں تھیں بلکہ ممبئی میں اپنے والدین کے ساتھ موجود تھیں۔ سوشیل میڈیا میں کارپوریٹ جہاد کی مہم کے خلاف کئی غیر مسلم دانشوروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک ہندو خاتون پروفیسر سمتی نے ندا خاں کے نام کھلا خط جاری کیا جس میں انہوں نے میڈیا اور سوشیل میڈیا میں جاری مخالف مہم پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک ہندوستانی ہندو خاتون کی حیثیت سے میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ آپ جس اذیت میں مبتلا ہیں ، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اس طرح کی اذیت صرف ایک مذہب کے ماننے والوں تک محدود نہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ مذہب سے بالاتر ہوکر ہر کسی کو ندا خاں کی تائید کرنی چاہئے۔ پروفیسر سمتی نے کہا کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں ندا خاں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ واضح رہے کہ ٹاٹا کنسلٹنسی کمپنی کی وضاحت کے باوجود گودی میڈیا پر کارپوریٹ جہاد کے نام پر مخالف مسلم مہم جاری ہے۔ کمپنی نے اس بات کی وضاحت کردی کہ تبدیلیٔ مذہب کے لئے دباؤ یا جنسی ہراسانی کی کوئی شکایت ملازمین کی جانب سے نہیں کی گئی ۔ ندا خاں کے وکیل نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت پر مبنی مہم کو روکنے کیلئے بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے بھی واضح کردیا کہ جبراً تبدیلیٔ مذہب کا کوئی معاملہ منظر عام پر نہیں آیا اور نہ کوئی منظم گیانگ سرگرم ہیں۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت ہے اور آئی ٹی کمپنیوں نے ملازمت کرنے والے مسلمان ہندوتوا طاقتوں کو کھٹک رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد آئی ٹی کمپنیوں نے مسلمانوں کی ملازمت کے راستے بند کرنا ہے۔1/k