صدر مہیلا کانگریس کی ہائی کمان سے نمائندگی
حیدرآباد۔/13 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد نامزد عہدوں میں اہم قائدین کو نظر انداز کرنے کی شکایت عام ہوچکی ہے۔ صدر ریاستی مہیلا کانگریس سنیتا راؤ کو حکومت کا کوئی بھی عہدہ نہیں دیا گیا اور انہوں نے اس معاملہ کو ہائی کمان سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اے آئی سی قائد راہول گاندھی کی قیادت میں چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ آٹھ ماہ میں ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس نے عوامی حکمرانی فراہم کی ہے اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کانگریس پارٹی ہی خواتین کے ساتھ انصاف کرسکتی ہے۔ اندرا گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی، میرا کمار، دیپا داس منشی اور کئی مہیلا قائدین کو پارٹی اور حکومتوں میں اہم ذمہ داری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی خواتین کے تحفظات پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابتداء ہی سے کانگریس پارٹی میں ہوں اور آئندہ بھی کانگریس میں برقرار رہوں گی۔ بی آر ایس دور حکومت میں میرے خلاف کئی مقدمات درج کئے گئے۔ گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں شکست کے امکانات کے باوجود میں نے ہائی کمان کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے مقابلہ کیا۔ حکومت نے کئی قائدین کو نامزد عہدوں پر فائز کیا جن میں شکست خوردہ قائدین بھی شامل ہیں۔ میں بھی کسی اہم سرکاری عہدہ کے لئے پارٹی سے نمائندگی کررہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مہیلا کانگریس کی صدرکی حیثیت سے انہوں نے 241 پروگرام منعقد کئے۔ تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی میں مہیلا کانگریس کی جانب سے اہم رول ادا کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہائی کمان مہیلا کانگریس قائدین کو موثر نمائندگی دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مہیلا کانگریس سے وابستہ ایک بھی قائد کو نامزد عہدہ نہیں دیا گیا۔1