نظامیہ یونانی طبی کالج میں داخلوں کی مشروط اجازت

   

خامیوں کو دور کرنے پر زور ، بہتر انفراسٹرکچر کے لیے آیوش کی توجہ ضروری
حیدرآباد۔6۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) گورنمنٹ نظامیہ یونانی طبی کالج میں موجود بی یو ایم ایس کے علاوہ پوسٹ گریجویشن میں داخلوں کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی لاپرواہی اور گورنمنٹ نظامیہ یونانی طبی کالج انتظامیہ کی غفلت کے نتیجہ میں بی یوم ایم ایس اور پوسٹ گریجویشن کی نشستوں پر داخلوں کی اجازت دینے سے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن نے انکار کردیا تھا۔ ’’روزنامہ سیاست‘‘ نے 19ستمبر کو اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن کی کاروائی کو منظر عام پر لایا تھا ۔ گورنمنٹ نظامیہ یونانی طبی کالج میں موجود 94 بی یو ایم ایس نشستوں اور 45 پوسٹ گریجویشن کی نشستوں پر داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے بعد تلنگانہ میں بی یوایم ایس اور طب یونانی کی تعلیم کا مستقبل خطرہ میں پڑچکا تھا ۔ سیاست میں مسلسل خبروں کی اشاعت کے بعد ریاستی حکومت کے محکمہ صحت نے حرکت میں آتے ہوئے ڈائریکٹر ’’آیوش‘‘ محترمہ عائشہ مسرت خانم آئی اے ایس کو دہلی روانہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے نمائندگی کرنے اور کمیشن کی جانب سے نشاندہی کی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کا تحریری تیقن دینے کی ہدایت دی تھی ۔ بتایاجاتاہے کہ محترمہ عائشہ مسرت خانم نے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن سے نمائندگی کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے خامیوں کو دور کرنے کا تحریری تیقن دیتے ہوئے بی یو ایم ایس اور پوسٹ گریجویٹ نشستوں پر داخلوں کی مشروط اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈاکٹر مکل پٹیل NCISM نے حکومت تلنگانہ کے محکمہ صحت کے ذمہ داروں کو بذریعہ ای۔میل داخلوں کی اجازت دیئے جانے کے سلسلہ میں مطلع کیا ہے اور حکومت کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اندرون ایک سال گورنمنٹ نظامیہ یونانی طبی کالج میں جن 27 خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے انہیں دور کیا جائے۔ کمیشن نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے ان میں تدریسی ‘ انتظامی اور غیر تدریسی عملہ کی قلت کے علاوہ ادویات سازی کے علاوہ انفراسٹرکچر کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔ مجموعی طور پر نشاندہی کردہ 27 خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کے لئے اگر حکومت کی جانب سے فوری طور پر اقدامات کا آغاز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یونانی طبی کالج کے وجود کو لاحق خطرہ سے محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ گورنمنٹ نظامیہ یونانی طبی کالج میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لئے سب سے پہلے کالج اور دواخانہ کے انتظامیہ کو بہتر بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں ‘ محکمہ صحت کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارہ ’’آیوش‘‘ کی جانب سے یونانی کالج اور دواخانہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی کے علاوہ سہولتوں کا آغاز کیا جاتا ہے تو طب یونانی کو درپیش مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔3/a/b