نئی دہلی، 8مئی (یواین آئی) سپریم کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف نازیبا تبصرے کے معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ اب “بہت ہو چکا” ہے ، لہٰذا دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز نوٹ کیا کہ مقدمہ چلانے کی منظوری کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی درخواست 19 اگست 2025 سے ریاستی حکومت کے پاس زیر التوا ہے ، جبکہ عدالت نے 19 جنوری 2026 کو ہدایت دی تھی کہ اس منظوری پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ لیا جائے ۔ سپریم کورٹ نے جنوری 2026 کی سماعت کے دوران شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے پر مدھیہ پردیش حکومت سے سوال کیا تھا اور عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ایس آئی ٹی کی درخواست پر حکومت کی غیر فعالیت پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے مدھیہ پردیش حکومت کو دو ہفتوں کے اندر فیصلہ لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھاکہ”آپ 19 اگست 2025 سے ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ قانون آپ پر ایک ذمہ داری عائد کرتا ہے اور آپ کو فیصلہ لینا ہی ہوگا۔ اب 19 جنوری آ چکی ہے ۔” عدالت نے زور دے کر کہا تھا کہ ریاستی حکومت قانون کے تحت لازمی فیصلے میں غیر معینہ مدت تک تاخیر نہیں کر سکتی۔ ایس آئی ٹی نے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری طلب کی تھی اور ان پر تعزیرات ہند 2023 کی دفعات 196(1)(اے ) اور 196(1)(بی) کے تحت جرائم کے الزامات عائد کیے تھے ۔ قابل ذکر ہے کہ آج عدالت کے ریمارکس اُس وقت سامنے آئے جب ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری کیلئے ایس آئی ٹی کی درخواست اب بھی مدھیہ پردیش حکومت کے پاس زیر التوا ہے ۔ سالیسٹر جنرل نے وزیر کے بیان کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے بدقسمتی پر مبنی تھے اور شاید انہیں غلط سمجھا گیا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے شاہ کا مقصد فوجی افسر کی تعریف کرنا ہو، لیکن وہ اپنے خیالات کو صحیح انداز میں بیان نہ کر سکے ۔