وقف اراضیات کی تباہی کی تحقیقات میں پیشرفت سے کوئی واقف نہیں

   

سی آئی ڈی نے تفصیلات اکٹھا کرنے پر ہی اکتفاء کیا ہے ۔ رپورٹ کی تیاری کیلئے محض پانچ ماہ کا وقت باقی

حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) حکومت نے ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اب تک کی تباہی کی تحقیقات کا اعلان کرکے احکام جاری کئے تھے لیکن تحقیقات میں کس حد تک پیشرفت ہوئی اس سے کوئی بھی واقف نہیں ہیں بلکہ سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کیلئے 16نومبر 2021کو محکمہ اقلیتی بہبود سے جی او ایم ایس نمبر 20جاری کرکے تحقیقات کو اندرون ایک سال مکمل کرکے رپورٹ اور سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ حکومت کی تفصیلات میں کہا گیا کہ تلنگانہ میں57 ہزار 423.91 ایکڑاواقافی اراضیات پرقبضہ کیا گیا اور اوقافی اراضیات پر 2892 مقدمات زیر دوراںہیں۔چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی اجلاس کے دوران 7اکٹوبر 2021 کو وقف اراضیات پر ناجائز قبضوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور ایک ماہ بعد سرکاری احکام جاری کئے جاچکے ہیں ۔ وقف بورڈ ذرائع کے مطابق سی بی سی آئی ڈی حکام نے تین مرتبہ وقف بورڈ دفتر پہنچ کر عہدیداروں سے ملاقات کرکے اوقافی اراضیات کی تفصیلات حاصل کیں اور عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات کی تفصیلات بھی حاصل کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں سی آئی ڈی ںنے جن اراضیات پر قبضہ کیا گیا ہے ان کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں لیکن اس میں کیا پیشرفت ہوئی اس سے کوئی واقف نہیں ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے احکام میں اوقافی ارضیات کے رجسٹریشن نہ کئے جائیں اسی لئے انہیں ’آٹو لاک‘ کرنے کے علاوہ بلدیات اور پنچایتوں کو ہدایات جاری کی گئی کہ وہ مقبوضہ اوقافی اراضیات پر تعمیری اجازت نامہ جاری نہ کریں۔ بتایاجاتا ہے کہ آئی ڈی کی جانب سے تمام اضلاع میں اوقافی اراضیات کی مکمل تفصیلات کے حصول کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔وقف بورڈ عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی ہدایت کے مطابق وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں لیکن اب تک سی آئی ڈی کی جانب سے جائیدادوں‘ قبضہ جات کے علاوہ مقدمات کی محض تفصیلات حاصل کی گئی ہیں جو کہ حوالہ کردی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سی آئی ڈی نے مقدمات پر خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے اور جن مقدمات میں گذشتہ چند ماہ کے دوران وقف بورڈ کو شکست ہوئی ان کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ بعض انتہائی اہم مقدمات میں بورڈ کی شکست کی وجوہات اور ناکامی کیلئے ذمہ دار افراد بالخصوص عہدیداروں اور وکلاء کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ سی آئی ڈی ذرائع کے مطابق مقبوضہ اوقافی اراضیات پر جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے ان کی سیاسی سرپرستی اور عہدیداروں کی ملی بھگت کے متعلق بھی تفصیلات اکٹھا کی جار ہی ہیں کیونکہ کئی اہم جائیدادوں پر جہاں قبضہ کیا گیا ہے ان پر سیاسی سرپرستی کے حامل افراد قابض ہیں اور ان کو وقف بورڈ عہدیداروں کی مدد کی اطلاعات ہیں اسی لئے سی آئی ڈی ان شواہد کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو یہ ثابت کرسکیں کہ اوقافی اراضیات کی تباہی میں عہدیداروں کا بھی رول ہے۔ حکومت کی جانب سے وقف اراضیات کی تباہی میں تحقیقات کے اعلان کے بعد سے عہدیداروں اور ملازمین میں بے چینی پیدا ہوگئی تھی لیکن سی آئی ڈی کی اب جو کارروائی کی جار ہی ہے وہ ان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ سی آئی ڈی کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کو رپورٹ پیش کرنے ابھی 5ماہ کا وقت باقی ہے لیکن اگر اس دوران مزید انکشافات ہوتے ہیں تو رپورٹ اور سفارشات کی پیشکشی کیلئے مزید وقت طلب کیا جاسکتا ہے تاکہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔م