ٹی آر ایس حکومت میں اقلیتیں ترقی کے حصہ دار

   

ایٹالہ راجندر کی چیف منسٹر کی کرسی پر نظر تھی ، مسلمانوں کے اجلاس سے گورنمنٹ وہپ بی سمن کا خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی و گورنمنٹ وہپ بی سمن نے سنسنی خیز ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ایٹالہ راجندر کی چیف منسٹر کی کرسی پر نظر تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں سے سازباز کرتے ہوئے مخالف حکومت سازشوں میں شامل تھے ۔ بے قاعدگیاں منظر عام پر آنے کے بعد انہیں وزارت سے علحدہ کردیا گیا ۔ ایٹالہ راجندر کے استعفیٰ سے اسمبلی انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ اگر ضمنی انتخابات میں ایٹالہ راجندر کامیاب ہوتے ہیں تو صرف انہیں فائدہ ہوگا وہی ٹی آر ایس کا امیدوار جی سرینواس یادو کامیاب ہوتا ہے تو سارے حلقہ حضور آباد کو فائدہ ہوگا ۔ کملاپور کے قاسم پلی میں مسلمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ گورنمنٹ وہپ نے ٹی آر ایس کے دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس اور تلگو دیشم نے اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جب کہ چیف منسٹر کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اقلیتوں کو ریاست کی ترقی کا حصہ دار بنایا ہے ۔ نئے نئے فلاحی اسکیمات کو متعارف کرایا ہے ۔ جس کی سارے ملک میں کہیں مثال نہیں ملتی ۔ بی سمن نے کہا کہ ایٹالہ راجندر کو ٹی آر ایس میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی تمام اہم عہدوں پر انہیں فائز کیا گیا ۔ کے سی آر کی سرپرستی کا ایٹالہ راجندر نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے ان کی نظر چیف منسٹر کی کرسی پر پہونچ گئی اور وہ دوسری جماعتوں سے سازباز کرتے ہوئے حکومت کے حلاف سازش شروع کردی تھی ۔ مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے ایس سی طبقات کی اراضیات پر قبضہ کیا جس کی وجہ سے انہیں وزارت سے برطرف کردیا گیا ۔ حضور آباد اسمبلی حلقہ کی ترقی کے لیے ٹی آر ایس کے امیدوار جی سرینواس یادو کو کامیاب بنانے کی مسلمانوں سے اپیل کی ۔۔