بھیمگل واقعہ پر متوفی کے خاندان کو 25 لاکھ ایکس گریشیا دینے پرشانت ریڈی کا مطالبہ
نظام آباد۔ 6 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق وزیر و رکن اسمبلی بالکنڈہ پرشانت ریڈی نے بھیمگل کے چائے فروش سُدھاکر کی پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں خودسوزی کے بعد علاج کے دوران موت کو ’’سرکاری قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متوفی کے خاندان کو 25 لاکھ روپے ایکس گریشیا دیا جائے اور سُدھاکر کی موت کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سُدھاکر کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے پسماندگان سے تعزیت کی اور کہا کہ سُدھاکر بھیمگل میں چھوٹا کاروبار کرتے ہوئے اپنے خاندان کی کفالت کررہے تھے اور پولیس کی مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں اپنے جسم پر پٹرول چھڑک کر آگ لگالی، جس کے بعد علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ سُدھاکر نے شدید جھلسنے کے باوجود خود بتایا تھا کہ پولیس انہیں مشکلات سے دوچار کررہی ہے، ایسے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا شخص کے بیان کو نظرانداز کرتے ہوئے پولیس کے ملوث نہ ہونے کی بات کہنا ضلع پولیس افسر کی ذمہ داری کے منافی ہے۔ پرشانت ریڈی نے بھیمگل سب انسپکٹر تروپتی پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سُدھاکر کی نعش کا آخری دیدار کرنے اور ان کے ارکان خاندان سے تعزیت کے لیے اپنے حلقہ انتخاب بالکنڈہ روانہ ہونے کی کوشش کے دوران انہیں حیدرآباد میں ان کی رہائش گاہ پر ہی پولیس نے ہاؤس اریسٹ کردیا، جسے انہوں نے حکومت کا بزدلانہ اقدام اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ پرشانت ریڈی نے سوال کیا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے پروگرام میں شرکت کے لیے نہیں بلکہ اپنے حلقہ کے ایک چھوٹے تاجر کی موت پر اس کے خاندان سے تعزیت اور آخری دیدار کے لیے جارہے تھے، تو انہیں حیدرآباد میں ہی روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو انہیں روکنا ہی تھا تو بالکنڈہ پہنچنے کے بعد بھی کارروائی کی جاسکتی تھی۔ سابق وزیر نے حکومت کے سامنے مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ سُدھاکر کے خاندان کو 25 لاکھ روپے ایکس گریشیا دیا جائے۔ بھیمگل ایس آئی تروپتی کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کیا جائے، متوفی کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے اور خاندان کو فوری مالی و قانونی امداد دی جائے۔ پرشانت ریڈی نے کہا کہ سُدھاکر کے خاندان کو انصاف ملنے تک جمہوری طریقہ سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور عنقریب سب انسپکٹر کے خلاف انسانی حقوق کمیشن سے بھی شکایت کی جائے گی۔