واقف ہیں خوب آپ کی طرزِ جفا سے ہم
اظہارِ التفات کی زحمت نہ کیجئے
رام مندر میں عطیہ اور چندہ کی چوری نے سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ملک کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پر حیران ہیں کہ ملک کے کروڑوں ہندووں کے مذہبی جذبات کی وابستگی اور عقیدہ کی دہائی دیتے ہوئے بنائی گئی مندر کے عطیہ میں بھی چوری کی گئی ہے اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ چوری کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود مندر کے ذمہ دار قرار دئے جا رہے ہیں۔ مندر کی دیکھ ریکھ کے جو ذمہ دار ہیں اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں ان سے تعلق رکھنے والے ا فراد ہی اس چوری کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ جو ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے بھی چوری کی توثیق کی ہے اور آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔ اس صورتحال ملک کے کروڑوںہندووں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی امیج بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی ہے جو مندر کے ذمہ دار بن گئے تھے اور جنہوں نے سارے ملک اور ملک کے عوام کو مذہبی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے مندر کیلئے چندہ اور عطیہ دینے کیلئے اپیلیں کی تھیں۔ حالانکہ تحقیقات میں جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ اپنی جگہ ہیں لیکن غیر مصدقہ ذرائع کا دعوی ہے کہ چوری اس سے کہیں زیادہ کی ہے بلکہ کچھ گوشے تو یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ یہ چوری نہیں بلکہ ایک اسکام تھا جسے انجام دیا گیا ۔ اب جبکہ سارا معاملا منطر عام پر آگیا ہے اور لوگ اس تعلق سے سوال کرنے لگے ہیں تو ایک بار پھر ہمیشہ کی روایت کی طرح ہندووں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ چوری کے ذمہ دار عناصر کو بچانے کیلئے یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ مذہب کو بدنام کیا جا رہا ہے یا مندر کے تعلق سے ہندووں کے عقیدہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ سوال چوری کے تعلق سے ہو رہا ہے اور چوروں کے تعلق سے ہو رہا ہے ۔ تاہم کچھ عناصر ہیں جو اس ساری صورتحال میں بھی گمراہ کن پروپگنڈہ چلا رہے ہیں۔
کچھ گوشوں کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ مندر میں چوری کے تعلق سے وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جو رام مندر کے مخالف تھے ۔ رام ندر کی مخالفت کئی گوشوں نے کی تھی کیونکہ یہ بابری مسجد سے جڑا ہوا مسئلہ بھی تھا ۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے اورم ندر کی تعمیر ہوچکی ہے تو یہ عذر پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مندر چوری کے مسئلہ پر ہندو دھرم کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ کوئی بھی ہندو دھرم کے تعلق سے کوئی سوال نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی اس تعلق سے کوئی منفی تبصرے کئے جار ہے ہیں۔ الٹا سوال کرنے والے ہندو عوام کے مذہبی جذبات کی بات کر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ چوری کرنے والوں نے ہندووں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کروڑوں ہندووں کے مذہبی جذبات جس مندر سے وابستہ ہیں اس میں کروڑہا رو پئے کی چوری کرتے ہوئے ہندووں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی گئی ہے اور ان سے کھلواڑ کیا گیا ہے ۔ عوام نے عقیدت کے ساتھ جو عطیات دئے تھے ان میں غبن کرنا ہی در اصل مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانا اور مذہب کو بدنام کرنا ہے ۔ سوال کرنے والوں کو الزامات کے ذریعہ خاموش کرنے کی کوششیں درست نہیں کہی جاسکتیں اور اس کے نتیجہ میں بھی خود الزامات لگانے والوں کی نیت پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔
گودی میڈیا کا جہاں تک معاملہ ہے تو ہمیشہ کی طرح اس نے تلوے چاٹنے والی روایت کو برقرار رکھا ہے اور جرم پر سوال کرنے کی بجائے مجرمین کو بے نقاب کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی گئی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گودی میڈیا ہو یا پھر چوری کرنے والے ہوں انہیں مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی مذہبی مقام سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ وہ تو سیاسی آقاوں کی خوشنودی اور غلامی کرنا چاہتے ہیں اور ان ہی کے اشاروں پر مندر میں چوری کرنے والوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔