پروین کمال
ٹیکنالوجی کے اس دور میں انسان کے رجحانات جدید ترین ٹیکنالوجی کی کھوج میں محو سفر ہیں۔ آیئے دن کوئی نہ کوئی نئی چیز تیار ہوکر بازار میں آجاتی ہے، جسے دیکھ کر عقل دنگ اور دل یقین نہیں کرتا کہ انسان یہاں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ آج کا بنا ہوا کوئی پرزہ چند ہی دنوں میں بیکار ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی نئی ٹیکنک آتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کی متعدد تحقیقاتی سرگرمیاں دنیا کو آگے بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہورہی ہیں۔ آج کل عالمی خلائی دور میں چین کی تیکنیکی صلاحیتیں برتری حاصل کررہی ہیں۔ آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ چین اب امریکہ کے مقابلے میں بہت آگے نکلنے والا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صدی میں امریکہ اور روس کے درمیان خلائی دوڑ ہوا کرتی تھی۔ اس وقت چین کے متعلق سائنسی جرائد کا کہنا ہے کہ جدید تحقیق کی دوڑ میں چین عالمی سطح پر اول نمبر پر آچکا ہے۔ آج کل دنیا بھر میں ٹیکنالوجی منصوبوں پر اس قدر تیزی سے تحقیقاتی کام چل رہا ہے کہ نچھلی سطح کے ممالک بھی آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ چین نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تحقیقی دنیا میں نمبرون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے جبکہ امریکہ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور مشہور زمانہ ٹیکنالوجی میں برتری رکھنے والا ملک جرمنی تیسرے نمبر پر آچکا ہے۔ یہ وقت کی بدلتی صورت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کی جستجو اور فوقیت حاصل کرنے کا جوش و جنون ہے کہ آج چین کا نام سرفہرست ہوگیا ہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہ چینی کبھی افیون زدہ قوم کہلاتے تھے۔ آج ترقی کی بلندی تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ ان کا کارنامہ ایک بہت بڑے نعرے پر منحصر ہے۔ انہوں نے دنیا کو یہ درس دیا ہے کہ ترقی کرنا ہو تو کام، کام اور کام کرنے کا عزم کرلو، یہ ترقی کی چابی ہے۔ اس نعرے پر اس قوم نے نئی نسل کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کا یہ یقین ہے کہ ترقی کے تمام راستے ہمارے ہاتھوں کی ان دس انگلیوں میں پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ان انگلیوں کا صحیح استعمال کریں۔ اب وہ افیونی چینی نہیں بلکہ صنعتی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ اپنی صنعتی زندگی کا آغاز انہوں نے چھوٹی چھوٹی چیزیں بناکر کیا جو جاذب نظر بھی ہوتی تھیں جوکہ دنیا بھر میں پسند کی جانے لگیں۔ ہر گھر میں نظر آنے لگیں اور مناسب داموں پر امریکہ یا یوروپ کے شاپنگ مال ہوں کہ گلف کی مارکٹس، ہر جگہ چینی مصنوعات ارزاں قیمت پر مل جاتی ہیں۔ اس طرح وہ آگے بڑھنے میں کامیاب ہوتے رہے۔ جب آدمی کو ایک راستہ مل جاتا ہے تو اگلے راستے خودبخود سامنے آنے لگتے ہیں۔ دنیا چین کی دماغی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کو اب مان چکی ہے۔ مستقبل میں چین چاند پر انسان بردار مشن بھیجنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ایک مستقل تحقیقاتی اڈہ بھی وہاں قائم کرے گا۔ علاوہ اس کے چاند میں جو چٹانیں موجود ہیں، اس سے کچھ نمونے نکالے گئے ہیں جو مستقبل میں جب وہاں بستیاں قائم کی جائیں گی۔ ان میں وہ نمونے استعمال کئے جائیں گے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ چینی قوم، دنیا کی اتنی اونچائی پر کیسے پہنچ گئی ۔ مگر اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ 1949ء میں اسے آزادی ملی اور اس کے اگلے ہی 10 برسوں بعد اس نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرلی یعنی بہت جلد اس نے آگے بڑھنے کیلئے اقدامات شروع کردیئے۔ اس وقت دنیا میں برطانیہ کے زوال کے بعد دو سوپر پاورس (امریکہ اور روس) تھے۔ اچانک چین کی اتنی لمبی اُڑان دیکھ کر ان کے دماغ ہل گئے۔ انہیں یہ خدشہ ہوا کہ اگر چین تیسرا سوپر پاور بن کر ابھرا تو دنیا بھر کے ممالک ان تین طاقتوں کے درمیان بٹ جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے حکمت عملی سے کام لیا اور اپنے سارے سائنس دانوں اور ٹیکنیکل ماہرین کو چین سے واپس بلا لیا۔ چینی حکومت حیران تھی۔ یہ اچانک اتنی بڑی تبدیلی کیوں ؟ جبکہ تمام پراجیکٹس ابھی تکمیل کے مراحل تک نہیں پہنچے تھے لیکن اس قوم نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے ہی ملک کے فنی ماہرین کو کام میں لاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور آج چینی ٹیکنالوجی میں دنیا کے اول و آخر کہلاتے ہیں۔ صدیوں قبل فرانس کے ہیرو نیپولن بوناپارٹ نے پیشن گوئی کی تھی کہ مستقبل زرد قوم کا ہوگا اور آج وہ ثابت ہوچکا ہے۔ چین کا شہر ہانگ کانگ جو 150 برس تک برطانیہ کا نوآبادی بنا رہا، جیسے کہ سب جانتے ہیں کہ برطانوی شہنشاہیت کے دور میں کسی نہ کسی ملک کا کوئی ، کوئی علاقہ برطانوی کالونی بنالیا جاتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح ہانگ کانگ بھی 150 سال تک برطانیہ کی نوآبادی میں شامل رہا اور پھر ایک وقت آیا آج سے 30 سال قبل پرنس چارلس (آج کے کنگ چارلس) بہ نفس نفیس آئے تھے اور ہانگ کانگ کی تاریخ میں 150 سال بعد ایک نیا موڑ آگیا۔ جب انہوں نے ہانگ کانگ کو عوامی جمہوریہ چین کے حوالے کیا۔ تو شدت جذبات سے ان کا چہرہ اور بھی سرخ ہوگیا۔ کیونکہ یہ آخری کالونی تھی جو ان کے قبضے سے نکلی جارہی تھی۔ لیکن معاہدات کے تحت یہ سب کچھ کرنا ضروری تھا اور پھر بحری کشتی سے واپس روانہ ہوگئے۔ ایک قابل غور بات یہ ہے کہ وہ روانہ ہورہے تھے تو ہزاروں کی تعداد میں عوام انہیں دیکھنے کی آرزو میں گھنٹوں کھڑے انتظار کرتے رہے۔ انہیں یہ خیال تک نہ آیا کہ یہی وہ ملک ہے جو اتنے طویل عرصے تک ہمارے ملک پر قابض تھا۔ یہ ان کی سادگی تھی یا سفید قوم کو قریب سے دیکھنے کا جنون۔ غرض ہانگ کانگ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے۔ یہاں دنیا کے بڑے سے بڑے تاجر موجود ہیں۔ یہاں تجارت قانون کے دائرے میں رہ کی جاتی ہے۔ تجارت کے راستے تیڑھے میڑھے نہیں ہوتے۔ اب جبکہ چین نے خلائی دوڑ میں بازی مارلی ہے تو وہ اپنی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ترقی سے خوف زدہ بھی ہے کہ کہیں اس کی ٹیکنالوجی کوئی چوری نہ کرلے۔ اس ضمن میں اس نے تمام ماہرین کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگانے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ قابل انجینئرس اور اس سے متعلقہ ماہرین جو اس شعبے میں برسرکار ہیں، انہیں دوسرے ملک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ صنعتی اور تیکنیکی سلامتی کا تقاضہ یہی ہے۔ اب یہ بات اور ہے کہ کوئی نئے راستے بھی نکالے جاسکتے ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ بہرحال! چین نے دنیا کو یہ درس دیا ہے کہ آنے والے دور میں دنیا پر حکمرانی اس کی ہوگی جس کے پاس جدید ٹیکنالوجی، بہتر وسائل اور زیادہ تجارتی منڈیاں ہوں گی۔