ڈی ناگیندر کی درخواست کی کل سپریم کورٹ میں سماعت

   

چیف جسٹس سوریا کانت کا سماعت سے اتفاق ، تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں تجسس
حیدرآباد۔21۔ستمبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے انحراف کے الزام کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کا سامنا کرنے والے ڈی ناگیندر کی درخواست کی 23 ستمبر کو سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ اپریش کمار سنگھ کی زیر قیادت بنچ نے ڈی ناگیندر کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا تھا ۔ ہائی کورٹ کے احکامات کو ناگیندر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل مکل روہتگی نے چیف جسٹس سوریا کانت کی بنچ پر آج خصوصی تذکرہ کے تحت یہ مسئلہ اٹھایا ۔ انہوں نے درخواست کی عاجلانہ سماعت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر کی صورت میں خیریت آباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن سے جاری کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس سوریاکانت نے چہارشنبہ کو اس معاملہ کی سماعت سے اتفاق کرلیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ڈی ناگیندر نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بارے میں منفی بیان دیا تھا لیکن اچانک سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔ مکل روہتگی کے خصوصی تذکرہ کے بعد چیف جسٹس نے 23 ستمبر کو اپیل کو فہرست میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کسی یکطرفہ کارروائی کو روکنے کیلئے بی آر ایس رکن اسمبلی کوشک ریڈی اور بی جے پی رکن اسمبلی مہیشور ریڈی نے پہلے ہی کیویئٹ پٹیشن دائر کی ہے تاکہ دونوں کی سماعت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈی ناگیندر کی درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے تلنگانہ کی سیاست میں پھر ایک مرتبہ انحراف کے الزامات کا سامنا کرنے والے ارکان کے تجسس میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے بی آر ایس سے منتخب ہونے کے بعد لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کو انحراف ثابت کرتے ہوئے 23 اپریل 2024 سے ناگیندر نے اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا تھا ۔ ہائی کورٹ نے خیریت آباد اسمبلی نشست کے مخلوعہ ہونے کا بھی اعلان کیا ۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ کے اس فیصلہ کے بعد دیگر 9 منحرف ارکان میں بے چینی پیدا ہوگئی کیونکہ ان کے خلاف بھی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر دوران ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ناگیندر نے اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کے ہائی کورٹ کے اختیارات کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نااہل قرار دینے کا اختیار اسپیکر اسمبلی کو حاصل ہے۔ دوسری طرف بی جے پی اور بی آر ایس کے حلقوں میں ضمنی چناؤ کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا اور امکانی امیدواروں کے بارے میں سینئر قائدین میں مشاورت شروع ہوچکی ہے۔1/k
دونوں پارٹیوں سے ٹکٹ کے دعویدار بھی متحرک ہوچکے ہیں۔1/k