آبپاشی پراجکٹ کی ری ڈیزائننگ سے بھاری نقصان ‘دولتمند افراد کو پنشن کی اجرائی ، سی اے جی رپورٹ میں کئی انکشافات
حیدرآباد 15 فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) رپورٹ پیش کی گئی جس میں ریاست کی معاشی صورتحال، کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں اضافی خرچ اور فلاحی اسکیمات کے بجٹ میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مارچ 2022 تک ریاست کی معاشی صورتحال پر کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ بجٹ کا موازانہ کیا جائے تو فلاحی اسکیمات کیلئے کم رقومات مختص کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں تعلیم ، صحت و آبپاشی کے شعبہ جات کی منظوریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں اچانک تخمینہ میں اضافہ کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی۔ سی اے جی نے کہا کہ کالیشورم پر بھاری رقومات خرچ کرنے کے باوجود زراعت شعبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ری ڈیزائننگ دیگر تبدیلیوں کی صورت میں 765 کروڑ کا نقصان ہوا ۔ سی اے جی نے تعلیم اور صحت کے شعبہ کو نظر انداز کرنے کی شکایت کی اور کہا کہ تعلیم کے شعبہ پر محض 8 فیصد اور صحت پر 4 فیصد بجٹ خرچ کیا گیا ۔ سی اے جی نے قرض حاصل کرکے آمدنی میں اضافہ ظاہر کرنے کا انکشاف کیا ۔ 2032-33 تک ریاست کو بھاری قرضہ پر 2.52 لاکھ کروڑ سود ادا کرنا پڑے گا۔ سی اے جی نے کالیشورم پراجکٹ کے کاموں کو الاٹ کرنے میں محکمہ آبپاشی کی خامیوں کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے بموجب تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی منظوری سے قبل 25 ہزار کروڑ مالیت کے 17 کام الاٹ کردیئے گئے ۔ ضرورت کے بغیر تین ٹی ایم سی پانی کیلئے تعمیراتی کام کئے گئے جن پر 25 ہزار کروڑ کا اضافی خرچ آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ سے زرعی شعبہ کو فائدہ کے بارے میں جو اندازے ہیں ، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں ۔ سی اے جی نے ریاست میں آسرا پنشن کی تقسیم پر اعتراض جتایا ہے۔ کہا گیا ہے کہ آسرا پنشن کی تقسیم میں بے قاعدگیاں کی گئی ہیں۔ 2018-21 کے دوران آڈٹ کی بنیاد پر سی اے جی نے انکشاف کیا کہ جامع خاندانی سروے کی بنیاد پر آسرا پنشن تقسیم کیا گیا ۔ سروے کی تفصیلات اور حقیقی صورتحال میں تضاد ہے۔ کہا گیا کہ آسرا پنشن کے تحت 16 فیصد ایسے افراد کو پنشن جاری کیا گیا جو پنشن کے اہل نہیں ہیں ۔ درخواستوں کی وصولی و جانچ نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معذورین ، بیڑی ورکرس اور تنہا زندگی بسر کرنے والی خواتین کے پنشن میں 535 کروڑ کی بدعنوانیاں ہوئی ہیں۔ فوت شدہ 367 افراد کا نام برقرار رکھ کر کئی ماہ پنشن ادا کیا گیا۔ سی اے جی نے نشاندہی کی کہ کئی زمینداروں اورکار رکھنے والے افراد کو بھی آسرا پنشن ادا کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مستحقین کی جانچ کے باوجود دو لاکھ افراد کو 1175 کروڑ کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی ۔ سی اے جی نے کالیشورم پراجکٹ پر انکشاف کیا کہ پراجکٹ رپورٹ میں 63352 کروڑ خرچ کا تخمینہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے 106000 کروڑ کیا گیا ۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پراجکٹ کی تعمیر مکمل ہونے تک 147427 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ سی اے جی نے تلنگانہ میں ریت کی کھدائی پر بھی اعتراض جتایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درج فہرست قبائل کے نام پر کنٹراکٹرس کو یہ کام حوالہ کیا گیا۔ 1