Wednesday , January 22 2020

کرناٹک میں ضمنی انتخابات‘ بی جے پی کی حکومت رہے گی یا جائے گی‘ فیصلہ 9کو ہوگا

ریاست کی 15سیٹوں پر ضمنی انتخابات مکمل‘ بی جے پی کو اقتدار میں قائم رہنے کے لئے کم از کم 6سیٹوں کی ضرورت‘ دو سیٹوں پر اب بھی ضمنی انتخابات ہونے باقی‘ کانگریس اور جے ڈی ایس کی کوشش جاری‘ بارہ سیٹیں جس کے پاس ہوں گی اس کی ہوگی حکومت

نئی دہلی۔کرناٹک میں بی جے پی حکومت رہے گی یانہیں‘ اس کا فیصلہ اب9ڈسمبر کو ہوگا۔ کرناٹک کی 15اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوگئے ہیں اور اب اس کے نتیجہ 9ڈسمبر کو آنا ہے۔

کرناٹک میں 17خالی اسمبلی کی سیٹوں میں سے ابھی صرف15سیٹوں پر ہی ضمنی الیکشن ہوا ہے چنانچہ اب بی جے پی کو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے کم از کم 6سیٹوں پر حاصل کرناہوگا‘ اگر چھ سیٹوں پر بی جے پی جیت حاصل نہیں کرپائی تو پھر وہ اقلیت میں اجائے گی۔

کرناٹک اسمبلی میں اس وقت اسپیکر کو شامل کرتے ہوئے جملہ225سیٹیں ہیں‘ لیکن دو سیٹوں پر ابھی ضمنی الیکشن ہونا باقی ہے لہذ ا تشکیل حکومت کے لئے 112سیٹوں درکار ہیں۔

بی جے پی کے پاس ایک آزاد کے بشمول کل106سیٹیں ہیں چنانچہ حکومت سازی کے لئے چھ سیٹیں درکار ہیں۔ واضح رہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات 2018میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔

اس کو 224میں سے 105سیٹیں حاصل ہوئی تھییں جبکہ کانگریس کو80اور جنتادل سکیولر کو 37سیٹوں پر جیت ملی تھی۔ کسی کو اکثریت نہ ملنے کے سبب جے ڈی ایس او رکانگریس اتحاد نے متحدہ حکومت قائم کی اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارا سوامی کو چیف منسٹر بنایاگیا۔

مذکورہ حکومت کا ایک سال ہی مکمل ہوا تھا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس میں بغاوت ہوگئی اور 17اراکین اسمبلی نے پارٹی سے انحراف کو فیصلہ کیا۔

حالانکہ انہیں منانے کی بہت کوششیں کی گئی مگر کچھ نہیں ہوسکا اورکمار ا سوامی کو بالآخر اپنا استعفیٰ پیش کرنا پڑا تھااور مذکورہ 17اراکین اسمبلی اسمبلی دستور کے مطابق نااہل قراردئے گئے۔

جہاں پر ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اس میں تیرہ سیٹوں پر کانگریس جبکہ تین سیٹوں پر جے ڈی ایس کا قبضہ تھا۔

اگر کانگریس اور جے ڈی ایس دوبارہ حکومت میں آنا چاہتے ہیں تو انہیں کم سے کم نو سیٹوں پر جیت حاصل کرنی ہوگی۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے پندرہ باغیوں میں سے تیرہ کو بی جے پی نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔

تاہم کانگریس کو پوری امید ہے ان کی ریاست میں دوبارہ واپسی ہوگی۔

مہارشٹرا میں پیش ائی سیاسی تبدیلی کااثر کرناٹک میں بھی پڑنے کا قوی امکان ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT