کرناٹک میں ڈرامائی صورتحال، کانگریس ۔ جے ڈی (ایس) حکومت کو خطرہ نہیں

’کچھ نہیں ہوگا، سب کچھ خدا کے ہاتھ ‘دیوے گوڑا کا ریمارک، دو ارکان اسمبلی ممبئی کی ہوٹل میں مقیم، بی جے پی ارکان ہریانہ کو منتقل

بنگلورو 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک میں کانگریس ۔ جے ڈی (ایس) اتحاد کو دھکہ پہونچاتے ہوئے دو ارکان اسمبلی نے آج ایچ ڈی کمارا سوامی حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلی۔ ایک آزاد رکن ایچ ناگیش اور آر شنکر (کے پی جے پی) نے گورنر کے نام تحریری مکتوب میں اپنے فیصلے سے واقف کروایا۔ میڈیا کو دستیاب ان دونوں الگ الگ مکتوبات میں ان دونوں ارکان اسمبلی نے کہاکہ وہ کانگریس ۔ جے ڈی (ایس) حکومت کی تائید سے فوری اثر کے ساتھ دستبردار ہورہے ہیں۔ یہ ارکان اسمبلی جو فی الحال ممبئی کی ہوٹل میں مقیم ہیں گورنر سے ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی ایک دوسرے پر ان ارکان کو راغب کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ بی جے پی ارکان اسمبلی فی الحال گرگاؤں میں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ چند آزاد اور کانگریس ارکان ممبئی کی ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔ ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کے لئے بی جے پی پر عائد کئے جانے والے الزامات کے دوران جے ڈی (ایس) کے قومی صدر اور سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے دعویٰ کیاکہ کمارا سوامی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دیوے گوڑا نے کہاکہ ’بشمول میڈیا یہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن آپ خواہ کتنی ہی چیخ پکار کرلیں کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ یہ سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

جب 38 ارکان اسمبلی کی کسی پارٹی (جے ڈی ایس) کو کانگریس جیسی قومی جماعت کی تائید و آشیرواد حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ سب کچھ خدا کی مرضی ہی تو ہے‘۔ کمارا سوامی حکومت کی تائید سے ایک آزاد رکن اسمبلی ایچ ناگیش اور کے پی جے پی کے آر شنکر کی دستبرداری کے اعلان سے کچھ دیر قبل ہی دیوے گوڑا نے یہ تبصرہ کیا۔ کانگریس اور جے ڈی (ایس) دونوں ہی ایک دوسرے پر ایک دوسرے کے ارکان اسمبلی کو لالچ دینے کے الزامات عائد کررہے ہیں۔ بی جے پی اپنے ارکان کو پہلے ہی ہریانہ کے ضلع نوح میں واقع ایک عالیشان ہوٹل کو منتقل کرچکی ہے۔ ریاستی وزیر آبی وسائل ڈی کے شیوا کمار نے اتوار کو الزام عائد کیا تھا کہ تین ارکان اسمبلی ممبئی کی ہوٹل میں کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ گوڑا نے کہاکہ کانگریس ۔ جے ڈی (ایس) حکومت کے لئے کوئی خطرہ کا تصور محض خام خیالی ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ میڈیا اور بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یدی یورپا اُلجھن میں ہیں۔ دیوے گوڑا نے ان الزامات پر وزیراعظم نریندر مودی کی سخت مذمت کی کہ حکمراں اتحاد کے ارکان کو بی جے پی کی طرف سے 60 کروڑ روپئے اور وزارتی عہدوں کی پیشکش کی گئی ہے۔ دیوے گوڑا نے برہمی کے ساتھ سوال کیاکہ ’کسی قومی جماعت (بی جے پی) کے لئے اپنے 104 ارکان اسمبلی کو روک رکھنا اچھا نظر آئے گا؟ مَیں امیت شاہ کی نہیں بلکہ مودی کی بات کررہا ہوں جو دن بھر بہت کچھ کہتے رہتے تھے‘۔ جے ڈی (ایس) کے صدر نے مزید کہاکہ ’ہمارے تمام ارکان اسمبلی اپنے گھر میں ہیں۔ ان کے بارے میں ہمیں کوئی فکر نہیں ہے‘۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی غیر ضروری طور پر پریشان ہورہی ہے۔ ’کرناٹک میں کانگریس کے تنظیمی اُمور کے انچارج اور اے آئی سی سی سکریٹری (کے سی) وینو گوپال بھی یہاں پہونچ گئے ہیں شائد اُنھیں کوئی خبر سن کر تکلیف پہونچی تھی لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے‘۔

کانگریس کے تنظیمی انچارج وینو گوپال بنگلور پہونچ گئے
’کوئی بھی بی جے پی کے جال میں نہیں پھنسے گا‘: کھرگے۔ منہ توڑ جواب دیا جائے گا: شیوکمار
بنگلورو15جنوری (سیاست ڈاٹ کام )کرناٹک میں جنتادل (سیکولر)۔کانگریس مخلوط حکومت گرانے کی بھارتیہ جنتاپارٹی کی کوششوں سے متعلق خبروں کے مدنظر کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال بنگلوروپہنچ گئے ہیں اور سینئر کانگریسی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے ۔مسٹر ونیوگوپال پیر کی رات بنگلوروپہنچے اور نائب وزیراعلی جی پرمیشور ،آبی وسائل کے وزیر ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کانگریس کے صدر دنیش گنڈو راؤ کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی اور ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا۔کانگریس کے کچھ ارکان اسمبلی کے پارٹی لیڈروں سے ناراض ہونے اور ممبئی اور دیگر جگہوں پر جاکر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کی خبریں مخلوط حکومت کے استحکام کے لیے خطرہ مانی جارہی ہیں ۔ذرائع کے مطابق بی جے پی کانگریس کے چھ سے آٹھ ناراض ارکان اسمبلی کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور دیگر سے بات چیت کررہی ہے اوران سے کہہ رہی ہے کہ وہ اپنی اپنی سیٹو ں سے استعفیٰ دیدیں ۔بی جے پی کواقتدارسے باہر رکھنے کے لئے مخلوط حکومت تشکیل دی گئی ۔مئی 2018میں کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 224 سیٹوں میں سے 104سیٹیں حاصل کی تھیں اور وہ اکثریت حاصل کرنے میں تھوڑے فرق سے پیچھے رہ گئی تھی۔مسٹر وینوگوپال کے ساتھ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سماجی بہبودکی وزیر پرینکا کھرگے نے الزام لگایاکہ بی جے پی پچھلے دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کی کوششوں کو وفادار کانگریس ارکان اسمبلی ناکام بنادیں گے۔ کھرگے نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی کانگریسی رکن اسمبلی بی جے پی کے جال میں پھنسنے والا نہیں ہے ۔انھوں نے کہا ’’اگر ایسی کوئی صورتحال پیداہوتی ہے تو کانگریس پارٹی منہ توڑ سیاسی جواب دینے کی اہل ہے‘‘۔ اس دوران آبی وسائل کے وزیر ڈی کے شیوکمار نے بی جے پی کو سخت وارننگ دی اور کہاکہ ’’کانگریس ارکان اسمبلی کو لالچ دینا بند کریں ‘‘۔انھوں نے کہاکہ پارٹی نے بی جے پی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے اور یہ بی جے پی کے خلاف استعمال کی جائیگی۔

TOPPOPULARRECENT