کسی بھی ریاست سے نا انصافی نہیں ہوگی ۔ سیاسی رنگ نہ دیا جائے ۔ بلوں کی کامیابی کا کریڈٹ اپوزیشن کو دینے بھی تیار ۔ وزیرا عظم نریندر مودی
نئی دہلی 16 اپریل ( ایجنسیز ) لوک سبھا میں آج خواتین تحفظات قوانین میں ترمیم کیلئے 131 واں دستوری ترمیم کا بل پیش کیا گیا ۔ اس پر رائے دہی کے بعد دو دوسرے بل بھی پیش کئے گئے جن میں حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کا بل اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کا ( ترمیمی ) بل شامل ہیں۔ ان بلز پر غور و خوض کیلئے پارلیمنمٹ سہ روزہ خصوصی اجلاس چل رہا ہے ۔ اس بل کی تائید میں 251 ارکان نے اور مخالفت میں 185 ارکان نے رائے دہی کی تھی ۔ ان بلوں کی منظوری پر رائے دہی جمعہ کو 4 بجے شام ایوان میں ہونے والی ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے مباحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ان بلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں اور خواتین کو 33 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے عمل میں تیزی لائیں۔ حلقہ جات کی از سر نو حد بندی پر شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے تیقن دیا کہ کسی بھی ریاست کے ساتھ اس مسئلہ پر ناانصافی نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کریڈٹ اپوزیشن جماعتیں چاہیں تو خود بھی لے سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ خواتین تحفظات بل اور حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا بل پیش کرتے ہوئے ملک نے تاریخی قدم اٹھایا ہے ۔ اس بل میں کو منظوری مل جائے تو ملک میں لوک سبھا نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھ کر 850 ہوجائے گی ۔ از سر نو حد بندی کا عمل گذشتہ مردم شماری کے اعداد شمار کے مطابق کیا جائے گا ۔ انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے مشترکہ طور پر اس بل کے خلاف ووٹ دیا اور کہا کہ وہ حد بندی سے متعلق بل کی بھی مخالف ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین تحفظات کی مخالف نہیں ہیں۔اس بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ 2029 تک جو بھی انتخابات ہونگے وہ بھی موجودہ تعداد کے مطابق ہی ہونگے ۔