کشمیریوں پر حملوں کیخلاف کارروائی کرنے سپریم کورٹ کی ہدایت

22srnp2: SRINAGAR, FEBRUARY 22 (UNI) Leaders of Trade Unions holdiong a procession at business hub Lal chowk in summer capital Srinagar on Friday afternoon in protest against attack on Kashmiris in Jammu and other parts of the country.. UNI PHOTO-22SRPN3

پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر تشدد کے واقعات کا سخت نوٹ
نئی دہلی۔22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ان ریاستوں سے جواب طلب کیا ہے جہاں پلوامہ دہشت گرد حملہ کے بعد کشمیریوں پر تشدد ہورہا ہے۔ ان کے خلاف تشدت پر مبنی کارروائی کی جاکر خطرات کو بڑھاوا دینے کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور ڈی جی پیز کو ہدایت دی کہ وہ فوری اور ضروری کارروائی کریں۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا، پنجاب، اترپردیش، بہار، جموں و کشمیر، ہریانہ، میگھالیہ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ کے چیف سکریٹریز اور ڈائرکٹر جنرلس آف پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کشمیری طلباء کے بشمول کشمیریوں کے خلاف خطرات پیدا کرنے ان پر حملوں اور اس کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے واقعات کو فوری روک دیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر قیادت بنچ نے ان پولیس آفیسرس کو ہدایت دی جنہیں نوڈل آفیسرس کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کام ہے کہ وہ ہجومی تشدد کو روکیں۔ اب وہ کشمیریوں پر ہونے والے حملوں کے واقعات سے بھی سختی سے نمٹنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ بنچ نے مرکزی وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ بڑے پیمانہ پر اس بات کی تشہیر کرے کہ جن کشمیریوں پر حملے ہوں گے وہ نوڈل آفیسرس سے رجوع ہوجائیں۔ چیف سکریٹریز، ڈی جی پیز اور دہلی پولیس کمشنر کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ان حملوں کے واقعات کو روکنے فوری کارروائی کریں۔ سپریم کورٹ کی بنچ میں طارق ادیب کی درخواست پر سماعت ہورہی ہے۔

انہوں نے مرکزی اور ریاستوں کو یہ ہدایت دینے کی استدعا کی کہ کشمیریوں پر ہونے والے حملوں کے واقعات کو روکدیں۔ ایڈوکیٹ کولین گانسالوے نے درخواست گزاروں کی پیروی کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اب تک کشمیریوں پر حملے کے 10 واقعات ہوئے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل اے بی کے وی وینو گوپال نے مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت میں حاضری دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو ایک پیام روانمہ کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں۔ مرکز نے پہلے ہی تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو اڈوائزری جاری کی ہے کہ فوری احتیاطی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو روکنے میں سرگرم ہوجائیں۔ بنچ نے اس کیس کی مزید سماعت آئندہ چہارشنبہ مقرر کی ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد ملک بھر میں کشمیریوں کے خلاف ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔سپریم کورٹ نے کشمیریوں کی سلامتی کو لاحق خطرہ پر اٹھائے گئے سوال کا نوٹ لیتے ہوئے آئندہ سماعت میں جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT