اینٹی بائیوٹک دواؤں سے جگر متاثر ہوسکتا ہے، ماہر ڈاکٹرس کا انتباہ
حیدرآباد۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران کیسس میں اس قدر اضافہ ہوا کہ عوام کو دواخانوں میں بستروں کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔ بستروں کی کمی اور خانگی دواخانوں میں علاج کیلئے بھاری رقومات کے مطالبہ کے سبب عوام گھر پر خود اپنا علاج کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اپنے سے دواؤں کا تعین کرتے ہوئے استعمال کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ڈاکٹرس نے انتباہ دیا ہے کہ کورونا جیسے مرض میں اپنی مرضی کے مطابق ادویات کے استعمال سے جگر متاثر ہوسکتا ہے جوکہ انسانی جسم کا اہم حصہ ہے۔ ’’ ورلڈ لیور ڈے‘‘ کے موقع پر ڈاکٹرس نے کہا کہ خود کا علاج کرنے کا رجحان عوام میں عام ہورہا ہے۔ بخار، کھانسی، سردی جیسی بیماریوں سے نمٹنے کیلئے عوام اپنے سے ادویات کا استعمال کررہے ہیں حالانکہ یہ کورونا کی بنیادی علامات ہیں۔ ڈاکٹرس نے کہاکہ وائرس کے مقابلہ کیلئے اینٹی بائیوٹک ادویات موثر ثابت نہیں ہوسکتیں۔ یہ صرف بیکٹیریا کے انفیکشن میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ کورونا کا شکار افراد دراصل وائرس سے متاثرہ ہیں لہذا ان پر اینٹی بائیوٹکس دوائیں اثر نہیں کریں گی۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اپنے سے علاج کرنے سے قبل عوام کو کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیئے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ سیلف میڈیکیشن اکثر فائدہ سے زیادہ نقصاندہ ثابت ہوا ۔