حیدرآباد : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ایچ ایم ڈی اے) کے ساتھ گولکنڈہ کے قریب تاریخی کٹورا حوض کی صفائی اور اس کے مرمتی کاموں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ کٹورا حوض کی صفائی کا کام 7 مارچ کو شروع کیا گیا اور اس کے لئے جے سی بیز لگائے گئے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس تالاب کی صفائی پر توجہ دی جارہی ہے جبکہ ایچ ایم ڈی اے نے اس کیلئے ضروری مشینری فراہم کی ہے۔ بلدی ادارہ نے قبل ازیں اس کے مرمتی کام کیلئے فنڈس مختص کئے ہیں۔ حالانکہ تلنگانہ اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا منصوبہ اس تاریخی تالاب کو سیاحوں کیلئے پرکشش مقام بنانے کا تھا لیکن بعد میں جی ایچ ایم سی نے ذمہ داری لی۔ حکومت کی لاپرواہی اور سردمہری کا شکار 460 سالہ یہ تاریخی تالاب کئی دہوں سے خراب حالت میں ہے جس میں جھاڑی ہوگئی ہے اور خودرو پودے اگ آئے ہیں اور یہ مچھروں کی افزائش کا مقام بن گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے قریب رہنے والوں کو مشکلات ہورہی ہیں۔ تاہم محکمہ بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کی مداخلت سے اس تالاب کی حالت ازسرنو بہتر بنایا جارہا ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے پرنسپل سکریٹری اروند کمار نے کہا کہ کٹورا حوض کی صفائی کی جارہی ہے۔ جی ایچ ایم سی کا منصوبہ گذشتہ سال ہی کٹورا حوض کو صاف کرنے کا تھا لیکن کوویڈ۔19 وبا کے باعث یہ کام نہیں ہوسکا اور اس میں رکاوٹ ہوئی۔ کٹورا حوض کو 16 ویں صدی میں قطب شاہی حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور یہ اس وقت تازہ پانی کو اسٹور کرنے کا تالاب ہوا کرتا تھا لیکن دہوں گذرنے کے ساتھ اس کی حالت خراب ہوگئی اور اسے نظرانداز کردیا گیا اور یہ بتدریج کچرا ڈالنے والے مقام میں تبدیل ہوگیا۔ عہدیداروں کے مطابق اس تالاب کی صفائی کے بعد یہاں بورویلس ڈالنے، روشنی کا انتظام کرنے، پاتھ ویز کی تعمیر، لینڈاسکیپنگ، خوبصورت بنانے اور کشتی رانی جیسی سرگرمیوں کو شروع کرنے کی تجویز ہے اور اس کا مقصد کٹورا حوض کو شہر میں ایک نیا سیاحتی مقام بنانا ہے۔