بشریٰ بانو کا قصور کیا ہے … دوسروں کو انعام مسلمان کو سزا
عمر خالد کے جیل میں 6 سال مکمل … انصاف کے دوہرے معیارات
رشیدالدین
ملک ایک، دستور ایک اور قانون ایک لیکن انصاف کے معیار مختلف کیوں ؟ دستور نے ہر ہندوستانی کو مذہبی آزادی دی ہے اور فرد چاہے کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، وہ نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرسکتا ہے بلکہ پرچار کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ آزادی کے 80 برسوں سے دستوری حقوق پر عمل کیا گیا لیکن گزشتہ 12 برسوں میں دستور تو نافذ ہے لیکن عمل آوری کے معیارات تبدیل ہوگئے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ کوئی مسلمان اپنے مذہب کے دعائیہ کلمات عربی میں ادا کریں تو اسے جرم تصور کیا جارہا ہے ۔ مذہبی آزادی اور عدلیہ سے انصاف کے حصول کے معاملہ میں دوہرے معیار کی تازہ مثال خاتون آئی پی ایس عہدیدار بشریٰ بانو اور جہد کار عمر خالد ہیں۔ مسلم آئی پی ایس عہدیدار کو محض اس لئے نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنے وائرل ویڈیو کا آغاز السلام علیکم سے کیا ۔ درمیان میں انشاء اللہ اور آخر میں جزاک اللہ جیسے الفاظ استعمال کئے جبکہ دوسری طرف عمر خالد اور شرجیل امام گزشتہ 6 برسوں سے جرم کے ثابت ہوئے بغیر جیل میں بند ہیں۔ ٹرائل کورٹ ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں ضمانت کی عرضیوں کو مسلسل مسترد کیا جا رہا ہے۔ جانبداری کی ان مثالوں پر ہر ایک انسانیت دوست ماتم کناں ہے۔ 2021 آئی پی ایس بیاچ سے تعلق رکھنے والی بشریٰ بانو کو کیا پتہ تھا کہ عربی کے چند الفاظ بھی فرقہ پرستوں اور نفرتی عناصر پر گراں گزریں گے ۔ دو مرتبہ UPSC امتحانات میں کوالیفائی بشریٰ بانو نے امتحان کی تیاری میں مصروف امیدواروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ویڈیو بنایا جس میں السلام علیکم ، انشاء اللہ اور جزاک اللہ کے عربی الفاظ استعمال کئے ۔ نفرتی عناصر کو کوئی بتائے کہ یہ تینوں الفاظ دعائیہ نوعیت کے ہیں۔ سلام تو سلامتی کی دعا ہے جبکہ انشاء اللہ کا مطلب اگر اللہ نے چاہا اور جزاک اللہ کے معنی اللہ آپ کو بہتر اجر دے ہیں۔ ان الفاظ میں ایسی کیا بات تھی کہ نفرتی عناصر کو یہ الفاظ دیش دروہی دکھائی دیئے ۔ اگر وہ اردو میں یہ تینوں باتیں کہتیں تو شائد ہندوتوا طاقتوں کو سمجھ آجاتا۔ عربی زبان سے ناواقفیت کہئے یا پھر نفرت نے زبان کو مسلمان اور اسلام سے جوڑ دیا جبکہ عربی میں دعا بھی گالی بن گئی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آگے چل کر عبادت میں عربی زبان کے استعمال پر اعتراض کیا جائے گا۔ ملک میں کئی سیکولر اور کشادہ ذہن رکھنے والے افراد کی کمی نہیں جو مسلم دوستوں کو سلام علیکم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ انتخابات کے موقع پر بیشتر سیاستداں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے سلام علیکم اور انشاء اللہ کا استعمال فخر کے ساتھ کرتے ہیں۔ عربی اگرچہ قرآن مجید کی زبان ہے لیکن خلیجی ممالک میں عیسائی ، یہودی حتیٰ کہ ہندو ملازمین بھی عربی میں بات چیت کرتے ہیں، لہذا زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑنا غلط ہے۔ بشریٰ بانو کے خلاف نفرتی عناصر کی مہم پر مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ان کا غیر اہم عہدہ پر تبادلہ کردیا۔ بشریٰ بانو کا آخر قصور کیا تھا ۔ انہوں نے ایسا کیا گناہ کردیا کہ حکومت نے فوری ان کا تبادلہ کرتے ہوئے اپنی کوتاہ ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ ملک میں اکثر و بیشتر ہندو اعلیٰ عہدیدار پوجا پاٹ کے ذریعہ اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرتے ہیں لیکن مسلمانوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ حکومتوں کے جانبدارانہ موقف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے جہدکار آکروتی چودھری کی UAPA قانون کے تحت گرفتاری کے معاملہ میں گوتم بدھ نگر کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میدھا روپم کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ تنخواہ سے پانچ لاکھ روپئے بطور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کی برہمی کو ضلع مجسٹریٹ کے سرویس ریکارڈ میں درج کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اتنا سب کچھ ہونے پر عام حالات میں عہدیدار کا کم از کم تبادلہ کیا جاتا ہے لیکن یہاں کارروائی توکجا ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ یوگی حکومت کی کیا مجال کہ جو میدھا روپم کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی دختر ہیں۔ میدھا روپم کی جگہ کوئی مسلم عہدیدار ہوتا تو معطل یا تبادلہ کردیا جاتا ۔ سعودی عرب میں ملازمت ترک کر کے ملک کی خدمت کے جذبہ کے ساتھ وطن واپس آنے والی بشریٰ بانو کی حب الوطنی پر شبہ کرنا انتہائی بدبختانہ ہے۔ اترپردیش کے کئی اعلیٰ پولیس عہدیداروں کو کاورڈ یاترا کے دوران یاتریوں کے پیر دھلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ کئی عہدیدار ہندو مذہبی رہنماؤں کے قدموں میں بیٹھے دکھائی دیئے لیکن کارروائی اس نہیں کی گئی کہ وہ ہندوتوا ایجنڈہ کی تکمیل کر رہے ہیں۔ سنبھل کے پولیس عہدیدار انوج چودھری کا جنوری 2025 کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں وہ پولیس وردی میں گدا اٹھائے ہوئے شوبھا یاترا میں شریک ہوئے ۔ پولیس عہدیدار سے زیادہ وہ ایک بھکت دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ گدا اٹھانا کوئی جرم نہیں ہے ۔ شوبھا یاترا میں گدا اٹھاکر شرکت کی دستور اور خود پولیس مینول اجازت نہیں دیتا لیکن یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے کارروائی کے بجائے شاباشی دیتے ہوئے پروموشن کردیا۔ بی جے پی حکومتوں کے پاس شوبھا یاترا کے یاتری بننا جرم نہیں لیکن السلام علیکم کہنا جرم ہے۔ ویسے بھی ملک میں مسلمانوں کے خلاف جارہانہ فرقہ پرست عناصر بے لگام ہوچکے ہیں۔ مساجد کے باہر نماز پر پابندی ، لاؤڈ اسپیکر پر اذاں پر امتناع ، مساجد اور مدارس کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں حتیٰ کہ کسی عوامی مقام پر نماز کی ادائیگی پر مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فلائیٹ اور ٹرین میں بھی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ مذہبی عبادت کے خلاف نفرت سمجھ میں آتی ہے لیکن مسلمانوں کو اپنے مسائل پر آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ دستور بچاؤ ملک بچاؤ تحریک کے تحت پرسنل لا بورڈ نے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ ظلم کرنے والے تو سرخرو ہیں لیکن مسلمان آہ بھی نہیں کرسکتے۔
عمر خالد اور شرجیل امام کے ٹرائل کے بغیر جیل میں 6 سال 13 ستمبر 2026 کو مکمل ہوگئے۔ 13 ستمبر 2020 کو گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی اور انہوں نے تہاڑ جیل میں 2192 دن اور تاریک راتیں گزاری ہیں۔ ہندوستان میں دستور اور قانون پر یقین رکھنے والے ہر شخص کا یہی سوال ہے کہ آخر تہاڑ جیل کی تاریک راتوں کی صبح کب ہوگی اور عمر خالد اور شرجیل امام سلاخوں کے باہر کھلی فضاء میں کب سانس لے سکیں گے۔ فروری 2020 کے دہلی فسادات میں اہم سازشی قرار دے کر یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ قانون ملزمین کو ضمانت کے حصول میں اہم رکاوٹ ہے۔ 6 سال کی تکمیل کے باوجود آج تک مقدمہ کی ٹرائل کا آغاز نہیں ہوا۔ عدلیہ کا یہ اصول ہے کہ ضمانت ملزم کا حق اور جیل استثنیٰ ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کئی سابق ججس ، نامور وکلاء ، دانشوروں اور جہدکاروں نے عمر خالد کے ساتھ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ان کی قید کی زندگی پر ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔ دراصل حکومت نہیں چاہتی کہ عمر خالد اور شرجیل امام جیل کے باہر آئیں۔ پتہ نہیں حکومت کو ان دونوں سے آخر کس بات کا خوف ہے۔ پولیس نے مقدمہ کے سلسلہ میں جملہ 5 چارج شیٹ داخل کئے اور پہلی چارج شیٹ میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ دوسری چارج شیٹ میں نام کو شامل کیا گیا ۔ ٹرائل کورٹ ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں بارہا ضمانت کی درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد 5 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے عمر خالد کے پانچ ساتھیوں کو ضمانت منظور کی لیکن ان دونوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی۔ عدلیہ اور قانون تو ایک ہیں لیکن انصاف رسانی کے معیارات مختلف ہیں۔ گزشتہ دنوں سوتنتر بھردواج نامی ہندوتوا کارکن کو دہلی کی پٹیالہ کورٹ نے تین ہفتے کی ضمانت منظور کی ۔ اس شرپسند نے ٹی وی پروگرام میں کھلے عام جنتر منتر پر احتجاجیوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا۔ سوشیل میڈیا میں جہدکاروں کے دباؤ کے بعد سوتنتر بھردواج کو گرفتار کیا گیا۔ اس پر پوکسو کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی قانون کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا لیکن عدالت نے ضمانت دے دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی وی پر جرم کا اعتراف کرنے والے شخص کو ضمانت مل سکتی ہے لیکن جس کا جرم ابھی تک ثابت نہیں ہوا ، وہ 6 سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق ججس اور نامور وکلاء نے چیف جسٹس کو مکتوب بھی روانہ کیا۔ ان سب کے باوجود دستور ، قانون ، جمہوریت اور عدالتوںکی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اثر تو عمر خالد اور ان کے افراد خاندان کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے شائد آج کے حالات کیلئے یہ شعر کہا تھا ؎
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں