کیرالا حکومت نے گیانیش کمار کیخلاف ویجلنس تحقیقات کی ہدایت دی

,

   

2006 رشوت ستانی معاملہ کی فائلیں طلب، چیف الیکشن کمشنر کی مشکلات میں اضافہ

حیدرآباد۔ 4 اکتوبر (سیاست نیوز) کیرالا میں کانگریس زیرقیادت یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ حکومت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کرپشن کے الزامات سے متعلق 20 سال قدیم مقدمہ کے احیاء کا فیصلہ کیا ہے۔ گیانیش کمار کیرالا کیڈر کے آئی اے ایس عہدیدار ہیں اور انہوں نے اسٹیٹ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ کیرالا حکومت نے ویجلنس اور اینٹی کرپشن بیورو کے ذریعہ جانچ کی ہدایت دی ہے۔ گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر سطح پر جاری احتجاج کے دوران کیرالا حکومت کا یہ فیصلہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ کیرالا کے وزیر داخلہ رمیش چنیتالا نے بتایا کہ حکومت نے ڈائرکٹر ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو منوج ابراہم کو ہدایت دی ہے کہ خانگی ادارہ کی جانب سے رشوت حاصل کرنے کے معاملہ میں تحقیقات کی جائیں۔ کیرالا اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پراجکٹ کے تحت مین سنٹرل روڈ کو اپ گریڈ کرنے کے لئے انڈو ملیشین کنسٹرکشن کمپنی پیاٹ بیل کنسورشیم سے رشوت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ کمپنی کے پراجکٹ چیف انجینئر لی سی بین نے مشتبہ طور پر نومبر 2006 میں کوالالمپور میں خودکشی کرلی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ کیرالا کی حکومت نے ملائیشیا کی کنسٹرکشن کمپنی سے ربط قائم کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی ہیں۔ کیرالا کی وزارت داخلہ نے 2006 میں الزامات کی جانچ سے متعلق فائیلوں کو طلب کرلیا ہے اور قانونی رائے حاصل کی جارہی ہے۔ کانگریس کے لیڈر ایم وینوگوپال کی شکایت پر وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دیا۔ ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو کو ہدایت دی گئی کہ پراجکٹ انجینئر کے خودکشی معاملہ میں اس وقت کے چیف منسٹر وی ایس اچوتانندن نے جس تحقیقات کا حکم دیا تھا اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے۔ خودکشی کے واقعہ کے بعد گیانیش کمار کو پی ڈبلیو ڈی سکریٹری کے عہدہ سے علیحدہ کردیا گیا۔ کانگریس قائد وینوگوپال نے 2006 کے اس معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پراجکٹ انجینئر نے خودکشی نوٹ میں گیانیش کمار کا نام لکھا تھا۔ کیرالا حکومت کی جانب سے ویجلنس تحقیقات کے فیصلے سے گیانیش کمار کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ 1؍F