متاثرین شکایت کریں تو عوامی حکومت سخت کاروائی کرے گی
حیدرآباد، 5 نومبر ]سیاست نیوز[گورنمنٹ وہپ و ایم ایل سی ڈاکٹر بالمور وینکٹ نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک بلیک میلر قرار دیا ہے۔ سی ایل پی آفس اسمبلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی وینکٹ نے الزام لگایا کہ ریاست میں کے ٹی آر اور ان کی ٹیم ایک منصوبے کے تحت سرمایہ کاروں اور رئیل اسٹیٹ تاجروں کو پیسوں کے لیے دھمکیاں دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کے ٹی آر سے متاثرہ تاجر اور سرمایہ کار آگے آکر شکایت درج کرواتے ہیں تو تلنگانہ کی عوامی حکومت ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر پہلے کسی معاملے پر ٹویٹ کرتے ہیں اور پھر ان کا سوشل میڈیا اور اخبار اس کے خلاف مہم چلاتا ہے ، جس کی تازہ ترین مثال ایس اے ایس کمپنی کے مالک جی وی ایس راؤ کا معاملہ ہے۔ کے ٹی آر نے سال 2018 میں بطور وزیر اس کمپنی کو اجازت دی تھی، جبکہ بی آر ایس قائدین پی سری نواس ریڈی اور سنتوش راؤ کے بھی ان کمپنیوں میں شیئرس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ محبوب نگر ایم ایل سی انتخابات اور ورنگل رعیتو گرجنا سبھا کے موقع پر جے وی راؤ سے پیسے مانگے گئے تھے اور انکار پر اب انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ؟گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ ان کے پاس ہر الزام کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔ اگر کے ٹی آر نے اپنا رویہ نہ بدلا تو انہیں عوام کے کٹہرے میں مجرم کے طور پر کھڑا کر دیا جائے گا۔-2