گریٹر حیدرآباد میں پینے کے پانی کا بل ،ہر سال 5 فیصد اضافہ کی تجویز!

   

سیوریج کا الگ بل بھی دینا ہوگا ، شہر کے 8.07 لاکھ صارفین پر مالی بوجھ ، پانچ سال تک بڑھانے کا منصوبہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : گریٹر حیدرآباد کے عوام اور تجارتی طبقے پر جلد ہی پانی اور سیوریج چارجس کا بھاری مالی بوجھ پڑنے والا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے ایک بار چارجس میں بڑا اضافہ کرنے کے بجائے ہر مالی سال میں 5 فیصد ٹیرف میں اضافہ کرنے کا نیا ضابطہ تیار کیا جارہا ہے ۔ حال ہی میں منظور شدہ کور اربن ریجن بل CURE-2026 میں کئی اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں جس سے شہر کے تقریبا 8.07 لاکھ صارفین براہ راست متاثر ہوں گے ۔ گریٹر حیدرآباد میں پانی کے چارجس میں آخری بار تقریباً 15 سال قبل نظر ثانی کی گئی تھی ۔ پچھلے دیڑھ دہائی میں شہر کا رقبہ اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن واٹر بورڈ ریونیو اور آپریشنل اخراجات کے درمیان خسارہ انتہائی وسیع ہوگیا ہے ۔ فی الوقت اوسط 10 روپئے فی کلو لیٹر کی شرح سے پانی کا بل وصول کیا جارہا ہے ۔ سالانہ 5 فیصد کے خود کار اضافے کے فارمولے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں صارفین پر 25 فیصد کا اضافی بوجھ عائد ہوجائے گا ۔ یہ اضافہ خاص طور پر متوسط طبقے کے گھرانوں اور تجارتی اداروں کے لیے شدید معاشی دشواریوں کا باعث بنے گا ۔ جو مفت پانی اسکیم کے زمرے میں نہیں آتے ۔ واٹر بورڈ کی موجودہ گرانڈ رپورٹ کے مطابق شہر میں پانی کی فراہمی اور طلب کے درمیان زبردست فرق پایا جاتا ہے ۔ موجودہ یومیہ پانی کی فراہمی 583 MGD ہے جب کہ طلب 705 ایم جی ڈی ہے ۔ موجودہ سپلائی میں 167 ایم جی ڈی خسارہ ہے جو مستقبل میں بڑھ کر 260 ایم جی ڈی تک پہونچنے کا خدشہ ہے ۔ جملہ ڈرین و سیوریج کے کنکشنس 14.57 لاکھ ہیں ۔ مفت پانی اسکیم سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد 6.50 لاکھ ہیں ۔ ٹیرف اضافے کے دائرے میں آنے والے صارفین کی تعداد 8.05 لاکھ ہیں موجودہ واٹر چارجس کی ماہانہ وصولی 103 کروڑ روپئے ہے ۔ نئی پالیسی کی سب سے تشویشناک بات سیوریج سرویس کے طریقہ کارمیں تبدیلی ہے ۔ اب تک پانی کے استعمال کے بل پر ہی متعین فیصد کے حساب سے سیوریج کا چارج لیا جاتا تھا ۔ لیکن کور اربن ریجن کی نئی تجویز کے مطابق اب پانی کے استعمال سے قطع نظر سیوریج چارجس کی علحدہ فیس مقرر کی جائے گی ۔ یعنی شہریوں کو اب واٹر بل کے ساتھ ساتھ سیوریج کا ایک الگ مستقل بل بھی ادا کرنا ہوگا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرین سرویس اور مینٹیننس کی لاگت میں ہونے والے بھاری نقصان کی بھرپائی اور واٹر بورڈ کے لیے ایک مستحکم آمدنی کا نظام قائم کرنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں ۔۔ 2/m/b