وزیر صحت ہریش راؤ کا مشورہ، میڈیکل کالجس کے معاملہ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی ٹوئٹر پر شکایت
حیدرآباد۔/5مارچ، ( سیاست نیوز) وزیر صحت ہریش راؤ نے میڈیکل کالجس کی منظوری کے معاملہ میں تلنگانہ سے ناانصافی پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹوئٹر پر ہریش راؤ نے لکھا کہ مرکزی حکومت نے میڈیکل کالجس کی منظوری کے معاملہ میں تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی کی ہے۔ باوجود اس کے کہ حکومت نے نئے کالجس کیلئے بارہا اپیل کی۔ مرکز کی جانب سے 157 میڈیکل کالجس منظور کئے گئے۔ مرکز نے تلنگانہ کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کیا اور کالجس کے تین مرحلوں کے الاٹمنٹ میں بھی تلنگانہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ مرکز نے پہلے اور دوسرے مرحلہ کے بعد تیسرے مرحلہ میں منظوری کا تیقن دیا تھا لیکن اس معاملہ میں بھی دھوکہ دیا گیا۔ نرسنگ کالجس کی منظوری کے سلسلہ میں بھی تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ ہریش راؤ نے افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیکل کالجس کے معاملہ میں مرکزی وزراء کے بیانات متضاد ہیں۔ ایک وزیر کہہ رہے ہیں کہ ریاستی حکومت نے درخواست نہیں دی جبکہ دوسرے وزیر نے اعتراف کیا کہ کریم نگر اور کھمم میں کالجس کیلئے اپیل کی گئی اور وہاں خانگی میڈیکل کالجس کی موجودگی کی وجہ سے گورنمنٹ کالجس منظور نہیں کئے گئے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکزی وزراء صرف تنقید برائے تنقید یا پھر حقائق کے برخلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ مرکز کی جانب سے عدم منظوری کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر نے حکومت کے فنڈ سے 12 میڈیکل کالجس کا آغاز کیا ہے۔ جاریہ سال9 میڈیکل کالجس جبکہ آئندہ سال 8 میڈیکل کالجس قائم کئے جائیں گے۔ حکومت ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ایک لاکھ آبادی کیلئے 19 ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ تلنگانہ ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ حکومت نے ایک سال میں ایک ہی دن میں 8 میڈیکل کالجس کا آغاز کیا گیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ایسے افراد جن کے پاس ستائش کیلئے دل نہیں ہے وہ اس طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سابق میں بی بی نگر ایمس کیلئے تلنگانہ حکومت کی جانب سے اراضی الاٹ نہ کرنے کی شکایت کی گئی۔ اراضی کے الاٹمنٹ کا ثبوت پیش کرنے پر مرکزی وزیر نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔ اب میڈیکل کالجس کے معاملہ میں بھی بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے ایمس کی طرز پر بی بی نگر ایمس کا منصوبہ تھا لیکن حکومت نے 1365 کروڑ کے بجائے محض 156 کروڑ منظور کئے جو کہ مالیت کا 11.4 فیصد ہے۔2018 میں گجرات ایمس کیلئے 52 فیصد رقم الاٹ کی گئی۔ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔ مرکز سے سوال کیوں نہیں کئے جاتے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 میں کئے گئے وعدوں کے مطابق ٹرائیبل یونیورسٹی اور ریلوے کوچ فیکٹری کے قیام کے سلسلہ میں راج بھون کی جانب سے مرکز پر دباؤ بنایا جائے تو تلنگانہ عوام کی بڑی خدمت ہوگی۔ر
مہاراشٹرا کے بی جے پی اور شیوسینا قائدین کی بی آر ایس میں شمولیت
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے قائدین نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ریاست میں پارٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کا عہد کیا ہے۔ مہاراشٹرا کے سینئر سیاستداں اور سابق رکن پارلیمنٹ ہری باؤ راتھوڑ جو مہاراشٹرا میں عام آدمی پارٹی کے نائب صدر کے عہدہ پر فائز تھے ابتدائی رکنیت سے استعفی دے کر بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کے سی آر نے پرگتی بھون میں ان کا استقبال کیا۔ بی آر ایس میں مہاراشٹرا کے کئی اور سینئر قائدین نے شمولیت اختیار کی جن میں ضلع پریشد چندرا پور کے سابق نائب صدر سندیپ کراپے، نگر سیوک گونتی پیری، ببن نکوڈے اور بی جے پی کے سابق تعلقہ صدر فیروز خاں، شیو سینا کے تعلقہ کوآرڈینیٹر سیلیش سنگھ اور دوسرے شامل ہیں۔ ر