گورنر کے ذریعہ غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی سازش: ڈاکٹر نارائنا

   

خواتین کے خلاف مظالم میں اضافہ، اہم قومی ادارے اڈانی کے حوالے کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔23۔ اگست (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت نے سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کو تبدیل کرتے ہوئے ’’جو ہمارے ساتھ ہم اس کے ساتھ‘‘ پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے ۔ ہنمکنڈہ میں سی پی آئی کی ریاستی کونسل کے سہ روزہ اجلاس کے دوسرے دن ڈاکٹر نارائنا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں مودی حکومت کے تمام نعرے محض کاغذی ثابت ہوئے اور بی جے پی نے جملہ بازی کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ملک میں خواتین کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگایا گیا لیکن درحقیقت مودی حکومت صرف اپنے قریبی صنعتی گھرانوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور حکومت کی تائید کرنے والی پارٹیوں اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے خواتین اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ ہر سال دو کروڑ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس بارے میں 10 سال کی تکمیل کے باوجود کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ غیر بی جے پی ریاستوں میں حکومتوں کو گورنر کے ذریعہ ہراساں کیاجارہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کرناٹک اور مغربی بنگال کی مثال پیش کی جہاں گورنرس ریاستی حکومت کی مرضی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر نامزد کئے گئے گورنر نے کرناٹک میں عوام سے منتخب چیف منسٹر کے خلاف کارروائی کو منظوری دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے اشارہ پر انتقامی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور وفاقی نظام میں گورنرس کو منتخب حکومتوں کے خلاف استعمال کرنا اچھی روایت نہیں ہے۔ قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ اور ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ کے ہمراہ ڈاکٹر کے نارائنا نے کہا کہ کولکتہ میں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر سپریم کورٹ کی مداخلت قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے ممتا بنرجی حکومت کی جانب سے خاطیوں کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بہار اور اترپردیش میں خواتین پر مظالم کے واقعات کو مودی حکومت نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اہم قومی کمپنیوں کو اڈانی کے حوالے کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ ریاست کے مفادات کے نام پر چندرا بابو نائیڈو بھی کئی معاملات میں خاموش ہیں۔ امراوتی کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت نے فنڈس جاری کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو کو مطمئن کردیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے حکومت پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس حکومت کو عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر توجہ دینی چاہئے ۔ 1