حیدرآباد ریس کورس میں قائم کرنے کی وکالت، ایڈوکیٹ کی گورنر سے نمائندگی
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) ایڈوکیش کے ایک گروپ نے جنہوں نے ’’ہائیکورٹ پری رکشنا سمیتی‘‘ نام کی ایک سمیتی قائم کی ہے، گورنر تلنگانہ جشنودیو ورما پر زور دیا کہ نئے ہائیکورٹ اور مختلف لوور کورٹس کی عمارتوں کی تعمیر کیلئے حیدرآباد ریس کلب (ملک پیٹ ریس کورس) کی 168 ایکرس اراضی دی جائے۔ ایڈوکیٹس نے اس سلسلہ میں کل گورنر کو ایک مکتوب نمائندگی حوالہ کرتے ہوئے بتایا کہ پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچرل یونیورسٹی، راجندر نگر کی اراضی پر نئے ہائیکورٹ کے قیام کیلئے 100 ایکر اراضی الاٹ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلہ سے، جس کیلئے حال میں جی او 55 جاری کیا گیا ہے، ایڈوکیٹس کیلئے آنے جانے میں مشکلات ہوں گی کیونکہ یہ راجندر نگر میں واقع ہے جو موجودہ ہائیکورٹ سے 12 کیلو میٹر کی دوری پر ہے۔ ایڈوکیٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت ملک پیٹ میں ریس کورس اراضی کو رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کیلئے دے رہی ہے اور موجودہ ریس کورس کو سری سیلم روڈ پر فورتھ سٹی منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایڈوکیٹس نے کہاکہ ’’مجوزہ راجندرنگر اگریکلچرل یونیورسٹی کی اراضی میں 40 ایکر پر بائیو۔ ڈائیورسٹی پاک ہے جس میں نایاب اقسام کے درخت، پودے، پرندے وغیرہ ہیں اور نئے ہائیکورٹ عمارت کی تعمیر سے اس کی تباہی ہوگی اور ماحولیات کا کوئی بھی دلدادہ اسے قبول نہیں کرے گا اور بائیو۔ڈائیورسٹی پارک شہر حیدرآباد کیلئے لنگ اسپیس ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے یہ کہتے ہوئے کہ ہائیکورٹ کی تعمیر کیلئے شہر میں کوئی کھلی جگہ دستیاب نہیں ہے، ایڈوکیٹس کو گمراہ کیا ہے، حالانکہ ملک پیٹ ریس کورس میں کافی اراضی دستیاب ہے جو قلب شہر میں واقع ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نئے ہائیکورٹ کی عمارت ریس کورس کی اراضی پر تعمیر کی جاسکتی ہے اور مابقی خالی زمین پر دیگر تمام انٹگریٹیڈ کورٹس جیسے سٹی سیول کورٹ، کریمنل کورٹ، ٹریبونلس، اسپیشل کورٹس، کنزیومر کورٹ، اسٹیٹ کنزیومر کمیشن، ہیومن رائیٹس کمیشن وغیرہ کی تعمیرات کی جاسکتی ہیں۔ ایڈوکیٹس نے مزید کہا کہ موجودہ ٹریفک ہجوم کے حالات میں مختلف عدالتوں کو جانے والے ایڈوکیٹس کا بروقت عدالت پہنچنا ناممکن ہوگا۔ ہائیکورٹ کے ساتھ تمام انٹگریٹیڈ عدالتوں کے ایک مقام پر ہونے سے ایڈوکیٹس اور نزاعات کے فریقین کیلئے بھی سہولت بخش ہوگا۔ ریاستی گورنر سے یہ نمائندگی جی شارداگوڑ، ایم وینو مادھو، بی ملیش، کے وینکٹیشور پرساد اور کلکرنی راما کرشنا نے کی۔