ہم کیا کچی ترکاریاں کھائیں ؟ لوک سبھا میں ترنمول رُکن کا سوال

,

   

نئی دہلی : ترنمول کانگریس کی رکن لوک سبھا کاکولی گھوش دستی دار نے آج ایوان میں منعقدہ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یکایک کچا بیگن نکالا اور اُس کو چبانے لگیں ۔ انھوں نے اس طرح عام لوگوں کی زبوں حالی کو ظاہر کیا جو پکوان گیس کے سلینڈروں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے سبب بدحال ہیں۔ کانگریس رکن منیش تیواری کی شروع کردہ مباحث میں کاکولی نے حصہ لیتے ہوئے حکومت پر خوب تنقید کی اور سوال کیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم کچی ترکاریاں کھانے لگیں؟ اُنھوں نے کہاکہ ایل پی جی کی قیمت بڑھ کر 600 روپئے سے 1100 روپئے فی سلینڈر ہوچکی ہے جس نے عام گھرانوں کے بجٹ کو درہم برہم کردیا ہے ۔ قبل ازیں تیواری نے مہنگائی پر مباحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران شرح افراط زر دو ہندسوں میں پہنچ گئی، جو 30 سال میں سب سے زیادہ ہے ۔ اُنھوں نے نشاندہی کی کہ جی ایس ٹی روزمرہ کی اشیاء جیسے چاول ، دہی ، پنیر وغیرہ پر عائد کردیا گیا ہے جو عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ حتیٰ کہ بچوں کو تک نہیں بخشا گیا اور اسٹیشنری کی قیمتیں بھی بڑھادی گئیں۔