ہندوستان کے حقیقی وزیراعظم کون؟ مودی یا ٹرمپ؟

   

ڈاکٹر کے نارائنا کا سوال، دہشت گردی کے مسئلہ پر سیاست کرنے کا بی جے پی پر الزام، سامبا شیوا راؤ کے ہمراہ پریس کانفرنس
حیدرآباد 20 مئی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا اور ریاستی سکریٹری کے سامبا شیوا راؤ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اِس بات کی وضاحت کرے کہ دہشت گردوں اور ماؤسٹوں میں ملک کے لئے زیادہ نقصاندہ کون ہے؟ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی پی آئی قائدین نے کہاکہ پہلگام دہشت گرد حملہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اُس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دونوں ممالک کے بالواسطہ صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان نے ٹرمپ کے اشارہ پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ نریندر مودی حکومت دہشت گردوں سے زیادہ ماؤسٹوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو عوامی مسائل پر جدوجہد کررہے ہیں۔ حکومت کو یہ طے کرنا چاہئے کہ ملک کے لئے دونوں میں زیادہ خطرناک کون ہیں؟ ڈاکٹر نارائنا نے چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسیس کی بڑے پیمانے پر تلاشی مہم اور انکاؤنٹرس کی مذمت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ٹرمپ کے اشاروں پر وزیراعظم نریندر مودی کا خدمات انجام دینا ملک کی توہین کے مترادف ہے۔ اُنھوں نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں وضاحت طلب کی اور کہاکہ امریکی صدر دونوں ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے بارے میں غیرضروری بیان بازی کررہے ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے ٹرمپ کے بیانات پر مؤثر جواب نہیں دیا گیا۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ ہندوستان کے حقیقی وزیراعظم نریندر مودی ہیں یا ڈونالڈ ٹرمپ؟ ملک کے 140 کروڑ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال گونج رہا ہے۔ سی پی آئی قائدین نے الزام عائد کیاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی دہشت گردوں کی آڑ میں سیاست کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے باہمی تنازعات میں ٹرمپ کی ہدایات کو قبول کرنا افسوسناک ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہاکہ پاکستان کے خلاف مختلف ممالک کو روانہ کئے جانے والے ارکان پارلیمنٹ کے وفود کے ارکان کا حکومت کی جانب سے انتخاب افسوسناک ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ سیاسی پارٹیوں سے ربط قائم کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کے نام حاصل کرتی۔ سی پی آئی قائدین نے کرنل صوفیہ قریشی اور فوج کے خلاف بیان بازی کرنے والے بی جے پی قائدین کے خلاف کارروائی اور مدھیہ پردیش کے وزیر کو کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ صوفیہ قریشی کے خلاف مدھیہ پردیش کے وزیر کے بیان پر سپریم کورٹ نے برہمی ظاہر کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں آپریشن کگار کے نام پر ماؤسٹوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے تلاشی مہم بند کرتے ہوئے ماؤسٹوں سے بات چیت کا مطالبہ کیا۔ ماؤسٹ تنظیموں نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے حیدرآباد میں مس ورلڈ مقابلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سارا نظم و نسق مقابلہ حُسن میں مصروف ہے اور عوامی مسائل کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ وزراء اور عہدیدار مقابلہ حُسن کے پروگراموں میں مصروف ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ مقابلہ حُسن کے انعقاد پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ کارپوریٹ کمپنیوں کے مفادات کی تکمیل کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں۔1