روش کمار
مودی حکومت نے یو پی آئی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے اے ٹی ایم کمپنیوں کے شیرس یا حصص کیوں بڑھ رہے ہیں۔ یو پی آئی سے جڑی کمپنیوں کے شیروں کی قیمتوں میں اچھال کیوں آیا؟ کیا وہ تاجرین اور کاروباری بھی اس میں کود رہے ہیں جن سے یو پی آئی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اسی ایک پیمانہ سے دیکھئے تو اس ٹیکس سے کون چپ کر بیٹھ گیا ہے۔ کون کود رہا ہے آپ کو دکھائی دے گا۔ یہ فیصلہ کس کیلئے لیا گیا ہے۔ ایتھنول کے وقت بھی آٹو موبائیل کمپنیوں سے کہا گیا کہ سامنے آئے E-20 کا خیرمقدم کیجئے کسی نے تنقید نہیں کی۔ اسی طرح سے جن کمپنیوں کے شیرس کے دام بڑھ گئے ہیں اس فیصلہ کا خیرمقدم کررہی ہیں۔ لوگ اسے بھی نوٹ کررہے ہیں اور ٹوئیٹر پر یو پی آئی ٹیکس نمبر ون ٹرینڈ کررہا ہے۔ یو پی آئی کو لیکر جس طرح سے لمبی لمبی باتیں بنائی جارہی ہیں، جلیبی بنائی جارہی ہے اسی سے شک ہوجاتا ہے کہ دوہزار سے زیادہ کے بل پر 0.4% ٹیکس یا فیس عائد کی گئی ہے اس کا معاملہ اتنا سا صاف ستھرا نہیں ہے۔ حکومت ابھی تک اس طرح برتاؤ کررہی تھی کہ یہ بڑے فائدہ کے قدم ہیں۔ فیصلے کے حامی ٹیکس عائد کرنے کو فائدہ سے جوڑنے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی کے حامی بھی اس فیصلہ سے حیران ہیں۔ ان میں بھی ایسے لوگ ہیں جو سوال اٹھا رہے ہیں۔ یو پی آئی کے ڈھانچہ کو چلانے والی پبلک سیکٹر کی کمپنی NPCI کے مطابق ریلوے مواصلات، بیمہ اور ایندھن سے جڑے مرچنٹ سے ہر 2000 کے ٹرانزیکشن پر 5 روپئے چارج وصول کیا جائے گا۔ فلیٹ چارج کے طور پر کر۔ کیا بیمہ کمپنی اپنی جیب سے حکومت کو 5 روپئے دے گی یا عوام سے وصول کرے گی؟ عوام پر اگر بیمہ کمپنی لاد دے گی تو عوام اس کا کیا بگاڑ لے گی۔ فیڈریشن آف آل انڈیا پٹرولیم ٹریڈرس کے لیڈر مونٹی ہنگل نے ہندو بزنس لائن سے کہا کہ اگر 5 روپئے کی فیس سے چھوٹ نہیں ملی تو ہم 2000 روپئے زیادہ کے یو پی آئی چارج نہیں لیں گے۔ ہمارے پاس پہلے سے بہت کم مارجن بچا ہے۔ 2017ء کے بعد سے مہنگائی میں اضافہ کے بعد اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پٹرول ڈیلر کیلئے بہت مشکل ہیکہ ایسی کوئی فیس اپنی طرف سے ادا کرے۔ ان کا مطالبہ ہیکہ فیول کے ریٹیلر کو چھوٹ دی جائے۔ اب سارا پروپگنڈہ بے نقاب ہوگیا۔ خوب ماحول بنایا جارہا ہیکہ تاجرین سے 2000 کے ٹرانسیکشن پر 0.4% کا چارج لیا جائے گا۔ تین سو سے زیادہ کا نہیں ہوگا مگر ماحول نہیں بن پارہا ہے کیونکہ اس کے جواب میں اتنے سارے سوال ہیں جن کے جواب دینے کیلئے حکومت سامنے نہیں آرہی ہے۔ بات اس کی نہیں کہ جو پیسہ لیا جارہا ہے وہ کتنا ہے بلکہ بات اس کی ہے کہ جو پیسہ لیا جارہا ہے اس کا بڑا حصہ کس کے پاس جائے گا اور کس کے دباؤ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ کیا یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں لیا گیا۔ حکومت کے اس فیصلہ کی مذمت میں سب سے بڑی بات یہی ہے کہ امریکی کمپنیوں کے دباؤ میں مودی حکومت جھک گئی۔ اس طرح کی رپورٹس جاری کی جارہی ہے کہ یو پی آئی کے مفت ہونے سے امریکہ کی کارڈ کمپنیوں کو نقصان ہورہا ہے کیونکہ وہ اپنی خدمات مفت نہیں دے سکتی۔ اس وجہ سے ہندوستان کے عوام انہیں چھوڑ کر یو پی آئی پر شفت ہوگئی۔ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کاڈ کا استعمال گھٹ گیا۔ اب یو پی آئی پر فیس لگے گی تو ہندوستان کے عوام کہاں جائیں گے۔ اس بارے میں راہول گاندھی مودی جی کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کے سامنے نہ جھکیں، اپنے گھٹنے نہ ٹیکیں اور یو پی آئی ٹیکس کو واپس لیں۔ راہول گاندھی کا الزام ہیکہ یو پی آئی سے جڑے تاجرین پر چارج لگا کر ٹیکس لگا کر مودی سرکار نے امریکہ کے سامنے سر جھکادیا۔ یو ایس ٹریڈ ڈیل کی طرح ہی Comprimesed PM مودی ایک بار پھر امریکی دباؤ کے سامنے سرینڈر کررہے ہیں۔ آر ایس ایس سے جڑے سدیشی جاگرن منچ نے بھی مانگ کی ہے کہ اس فیصلہ پر حکومت ازسرنو غور کرے۔ یہ خانہ پری ہے یا سودیشی جاگرن منچ واقعی اپنی مانگ کو لیکر سنجیدہ ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یو پی آئی ٹیکس واپس لیا جائے۔ پہلے اس سوال کا جواب دیا جائے کہ کیا یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں لیا گیا ہے۔ اگر امریکہ کے دباؤ میں لیا گیا فیصلہ ہے تو اس سے بڑی بدبختی اور کچھ نہیں ہوسکتی۔ اقتصادی معاملوں کو ملک کے مفاد میں اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ امریکہ کے دباؤ میں حکومت اس طرح کا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے۔ یو پی آئی پر ٹیکس لگانے کے فیصلہ کے حامیوں نے جلیبی بناتے بناتے لکھا پے منٹ سسٹم کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ ہندوستان میں یو پی آئی سے جو ادائیگیاں ہوتی ہیں اس کے مارکٹ میں 86 فیصد قبضہ امریکہ کی دو کمپنیوں کا ہے۔ گوگل پے اور والمارٹ کی کمپنی PhonePe کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا اڈوائزر پنکچ پچوری نے ایک چارٹ ٹوئیٹ کیا ہے کہ امریکہ کی دو کمپنیاں یو پی آئی کا 86 فیصد حصہ پروسس کرتی ہیں۔ ذرا سوچئے کون یو پی آئی میں بدلاؤ کرنا چاہتا ہے اور کون ان کی بات مان رہا ہے۔ پنکج کا سوال ہے۔ یہی مودی حکومت این جی او کے چندہ کو سونگھتے رہتی ہے کہ بیرونی ممالک سے فنڈ کسی این جی او کو نہ مل جائے اور یہاں جس یو پی آئی پے منٹ سسٹم کے تحت 29.82 لاکھ کروڑ روپئے کا لین دین ہورہا ہے۔ 2450 کروڑ کا Transaction ہورہا ہے۔ اس ٹرانسیکشن 14.26 لاکھ کروڑ کا لین دین فون پے سے ہورہا ہے۔ دوسرے نمبر پر ہے گوگل پے جس کے ذریعہ اگست کے ماہ میں 10 لاکھ کروڑ سے زائد کا لین دین ہوا۔ اس میں پے ٹی ایم کا حصہ بہت معمولی نظر آتا ہے۔ دو لاکھ کروڑ کا فائدہ امریکہ کی دو کمپنیوں کو ہی ہونے والا ہے یہ کیسے ہوگیا۔ یو پی آئی کے آپ سارے سرکاری دعوؤں کو پلٹ کر دیکھئے ایسا محسوس ہوگا کہ پوری طرح ہندوستانی ہے۔ ہندوستانیوں کیلئے ہے۔ یو پی آئی کو قوم پرست ادارہ کی شکل میں پیش کیا گیا لیکن آپ کو یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ اس پلیٹ فارم پر اس سسٹم پر امریکہ کی دو کمپنیوں کا 86 فیصد سے زیادہ قبضہ کیسے ہوگیا ہے۔ ہندوستانی کمپنیوں کی مارکٹ میں کوئی حیثیت نظر نہیں آتی۔ جو ہندوستانی کمپنیاں پہلے سے ہی وہیں گوگل پے اور فون پے کے سامنے کچھ نہیں اور اب حکومت کہانی بنارہی ہے۔ بہتر ہوتا حکومت سامنے آتی۔ وزیرفینانس پریس کانفرنس کرتی اور ایک دو گھنٹے کیلئے گودی میڈیا کہیں سے ہمت کرلیتا۔ یو پی آئی ٹیکس لگانے سے جڑے یہ سارے سوال پوچھ لیتا لیکن جب سے یہ معاملہ چل رہا ہے وزیرفینانس نے پریس کانفرنس نہیں کی۔ ہاں ایک پوسٹر وزارت فینانس پوسٹ کئے جارہا ہے۔ اس کا مطلب ہیکہ سوالوں سے بھرے اس فیصلہ کو لیکر حکومت کے پاس ایک چارٹ کے علاوہ یا اس سے زیادہ کوئی جواب نہیں۔ اب چلتے ہیں آئی پی ایس آفیسر بشریٰ بانو کی طرف۔ کیا ان کا تبادلہ اس لئے کردیا گیا کہ انہوں نے یو پی ایس سی کی تیاری کرنے والے طلبہ کا حوصلہ بڑھانے کیلئے ایک ویڈیو بنایا اور اس ویڈیو میں طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے السلام علیکم کہہ دیا۔ بات چیت کے دوران انشاء اللہ اور آخر میں جزاک اللہ کہہ دیا۔ ایکس پر ہندوتوا کی پہچان والے کئی ہینڈلس سے اس طرح کے دعوے کئے جارہے ہیں کہ ان کی مہم چلانے کے بعد ہی بشریٰ بانوکا تبادلہ کیا گیا۔ مغربی بنگال کی حکومت کو جواب دنیا ہے کہ کیا ٹرول کی وجہ سے ایک نوجوان آئی پی ایس عہدیدار بشریٰ بانو کا تبادلہ کردیا گیا کیونکہ ان کے ہی دعوؤں کے بعد یہ بحث چل پڑی ہے کہ بشریٰ کا تبادلہ کس وجہ سے ہوا؟ کیا یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ہندو لیگل فنڈ اس کی شکایت کرتا ہے اور مغربی بنگال کی حکومت ان کے دعوؤں کے مطابق کھڑک پور کی پولیس عہدیدار آئی پی ایس بشریٰ بانو کا تبادلہ کردیتی ہے۔ دوسری طرف میدھا روپم آئی اے ایس ہیں نوئیڈا کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، 25 سال کی آکریتی چودھری کو غیرقانونی طریقہ سے گرفتار کیا گیا جیل میں رکھنے کیلئے فرضی بنیاد پر آکرپتی چودھری پر این ایس اے عائد کیا گیا۔ این ایس اے لگانے کا فیصلہ ضلع مجسٹریٹ کا ہوتا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس اچل سچدیوا نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ اس معاملہ میں گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ کے رول کی مذمت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس کی جانچ نہیں کی کہ NSA لگانے کے حق میں صحیح ہے یا نہیں۔ ایسا کرنے کیلئے کوئی معقول وجہ بھی نہیں تھی۔ ایسے ثبوت و شواہد نہیں تھے جسے دیکھ کر کہا جائے کہ آکرپتی نے نوئیڈا میں تشدد بھڑکانے کا کام کیا۔ اس لئے آکرپتی کو ہرجانہ ادا کرنے کیلئے نوئیڈا کی ڈی ایم میدھاروپم پر جرمانہ لگایا جانا بہتر ہوگا اور ان کے سرویس ریکارڈ میں عدالت کی یہ ناراضگی درج کردینی چاہئے۔ آئی اے ایس عہدیدار میدھاروپم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی ہیں۔ ان کے خلاف الہ آباد ہائیکورٹ کے دو ججس کی بنچ کا جو فیصلہ ہے اسے پڑھنے کے بعد کسی بھی حکومت کو ان کا تبادلہ کردینا چاہئے تھا۔ تبادلہ سے پہلے معطل کردینا چاہئے تھا۔ عدالت کہہ رہی ہیکہ ضلعی مجسٹریٹ نے غیرقانونی طور سے 25 سال کی آکرپتی کو گرفتار کیا بناء کسی ٹھوس ثبوت کے NSA لگادیا تو ایسے ضلعی مجسٹریٹ کو فوری معطل کیوں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تبادلہ تک نہیں کیا گیا ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ان کی تنخواہ سے 5 لاکھ روپئے نکال کر معاوضہ ادا کیا جانا چاہئے۔ میدھاروپم نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ابھی سماعت نہیں ہوئی۔ یوپی حکومت نے آئی اے ایس میدھاروپم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ لیکن بشریٰ بانو کے خلاف کارروائی کی گئی۔