آئی ٹی اور پیپر لیس اڈمنسٹریشن کے باوجود اسٹیشنری کی اہمیت برقرار

   

قومی مارکٹ میں کلاسمیٹ کی 20 فیصد حصہ داری، تعلیم اور پرنٹنگ کے شعبہ جات میں اسٹیشنری ضروری
حیدرآباد 6 اکٹوبر (سیاست نیوز) انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹلی جنس جیسی عصری ٹیکنالوجی کے اِس دور میں اسٹیشنری کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری اور خانگی سطح پر پیپر لیس اڈمنسٹریشن کو ترجیح دی جارہی ہے لیکن ملک کی اسٹیشنری مارکٹ پر 10 بڑی کمپنیوں نے اپنا غلبہ برقرار رکھا ہے۔ ہندوستان کے اسٹیشنری شعبہ کی مجموعی تجارت میں 20 فیصد حصہ داری آئی ٹی سی کلاسمیٹ کمپنی کی ہے۔ DOMS نے 12 فیصد حصہ داری کے ساتھ دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔ نٹراج اور اپسرا پنسل تیار کرنے والی کمپنی ہندوستان پنسلس نے اسٹیشنری مارکٹ میں 9 فیصد کی حصہ داری حاصل کی ہے۔ اِس کاروبار میں نمایاں حصہ داری والی کمپنیوں نے پلیر، کیملن، لگژر، لنک، بکسیلو، نونیت اور روریٹو شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کی حصہ داری 2 تا 8 فیصد درج کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی سطح پر ڈیجیٹل کلاس رومس کو متعارف کرنے کے باوجود اسٹیشنری کے استعمال میں خاطر خواہ کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔ کالجس اور یونیورسٹیز میں ریسرچ اور دیگر سرگرمیوں کے لئے اسٹیشنری کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔ سرکاری سطح پر پیپر لیس اڈمنسٹریشن کے مکمل طور پر آغاز میں کافی وقت لگے گا، اُس وقت تک اسٹیشنری کی مارکٹ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ سروے میں اِس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں کتابوں، رسائل اور جرائد کے مطالعہ کا رجحان بھی برقرار ہے لہذا پرنٹنگ شعبہ میں اسٹیشنری کا استعمال بدستور اہمیت کا حامل ہے۔V/1/a/b