آدھار تصدیق میں ناکامی پر پری میٹرک اسکالرشپ سے محروم نہیں کیا جا سکتا:مرکز

   

نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ آدھار کی تصدیق ناکام ہونے یا آدھار کارڈ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو ‘درج فہرست ذاتوں اور دیگر زمروں کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ یوجنا’ کے فوائد سے محروم نہیں کیا جا سکتا، بشرطیکہ طے شدہ متبادل طریقہ کار کے تحت ان کی شناخت کی تصدیق کر لی گئی ہو۔وزارتِ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کا یہ نوٹیفکیشن ان بچوں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے جنہوں نے آدھار کے اندراج کے لیے درخواست دی ہے اور آدھار نمبر ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، مستفیدین کے لیے آدھار تصدیق کرانا یا آدھار نمبر ہونے کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہے ۔ جن بچوں کے پاس آدھار نہیں ہے ، انہیں اندراج کے لیے اپلائی کرنا ہوگا۔ بچوں کے معاملے میں اس درخواست کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی لازمی ہے ۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں “کسی بھی بچے کو اسکیم کے فائدے سے انکار نہیں کیا جائے گا۔” حکام کو طے شدہ دستاویزی عمل کے ذریعے بچے کی شناخت اور اس کے والدین یا قانونی سرپرست کے ساتھ اس کے رشتے کی تصدیق کرنی ہوگی۔
ایسے معاملات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا اور وقتاً فوقتاً ان کا جائزہ اور آڈٹ کیا جائے گا۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے توسط سے نافذ کی جانے والی یہ اسکیم درج فہرست ذات کے طلباء اور غیر صحت بخش یا خطرناک پیشوں سے وابستہ والدین یا سرپرستوں کے بچوں کو وظیفہ فراہم کرتی ہے ۔اگر بائیو میٹرک تصدیق ناکام رہتی ہے ، تو ضابطے کے مطابق بائیو میٹرک کے کسی دوسرے طریقے یا ون ٹائم پاس ورڈ (اوٹی پی ) کے ذریعے تصدیق کا موقع دیا جائے گا۔ ان ذرائع کی عدم موجودگی میں، آدھار کے محفوظ کیوآر کوڈ یا پیپر لیس آف لائن شناخت کے دستاویزات کے طے شدہ معیاری تصدیق کی بنیاد پر اسکیم کا فائدہ دیا جا سکتا ہے ۔ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے اہل مستفیدین کے لیے ، محکمہ کو فوائد سے محروم ہونے سے بچانے کے لیے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) مشن کے طے شدہ استثنائی انتظام کی پابندی کرنی ہوگی۔یہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کی تاریخ سے نافذ العمل ہوگا۔