آدھار کارڈ کی بنیاد پر شادیوں کی انجام دہی کو یقینی بنائیے

   


کم عمر اور کنٹراکٹ کی شادیاں کرانے والے قاضیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی : محمد مسیح اللہ خاں
حیدرآباد ۔ 23 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے کم عمر والی مسلم لڑکیوں کی شادیاں کرانے والے قاضیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہر شادی کی تفصیلات آن لائن میں درج کرانے کی وقف بورڈ کو ہدایت دی ہے ۔ اس کے علاوہ میرج سرٹیفیکٹ بھی آن لائن میں دستیاب رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ کم عمر کی شادیوں کے علاوہ عرب باشندوں سے کم عمر کے لڑکیوں کی شادیاں ہونے کی شکایت وصول ہونے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ بچپن کی شادیوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے دولھا اور دلہن کے آدھار کارڈس کو شادیوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ماضی کی طرح کوئی بھی شناختی کارڈ کی بنیاد پر شادیاں کرانے پر پابندیاں عائد کردی گئی ہے ۔ قاضیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آدھار کارڈ کی بنیاد پر دولھا اور دلہن بالغ ہے یا نہیں اس کی نشاندہی کرلیں ۔ شادیوں کی تفصیلات کو وقف بورڈ میں جمع کرانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ نابالغ اور کنٹراکٹ میرج کرانے والے قاضیوں کے خلاف لازمی طور پر قانونی کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔ پہلے قاضیوں کا تقرر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔ اب اس میں معمولی تبدیلی لائی گئی ہے ۔ اضلاع کلکٹرس کی جانب سے قاضیوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد موصولہ تجاویز کی بنیاد پر قاضیوں کے تقررات سے متعلق احکامات جاری کئے جائیں گے ۔ شادی سے متعلق سرٹیفیکٹ آن لائن حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ فی الحال نکاح نامہ کے تمام امور تحریری طور پر انجام پاتے ہیں ۔ شادی ریاست بھر میں جہاں بھی ہوتی ہے میرج سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے حیدرآباد کے حج ہاوز سے رجوع ہونا پڑتا ہے ۔ صدر نشین ریاستی وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خاں نے کہا کہ ملک میں تلنگانہ واحد ریاست ہے جہاں مسلم شادیوں کی تمام تفصیلات آن لائن میں اندراج ہوتی ہے ۔ ماضی میں ہوئی شادیوں کے علاوہ فی الحال ہونے والی تمام شادیوں کا وقف بورڈ میں اندراج ہوتا ہے ۔ اس سے دھوکہ دہی کے واقعات کو روکنے میں بہت بڑی مدد حاصل ہورہی ہے ۔۔ ن