سکیوریٹی اداروں نے اجازت نہیں دی ۔ نشانہ بنانے کے اندیشوں کے تحت فیصلہ
تہران، 4 جولائی (یو این آئی): ایران کے سکیورٹی اداروں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی درخواست مسترد کر دی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل یا تو مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنا سکتا ہے یا ان کی عوامی موجودگی کو ان کے خفیہ ٹھکانے کا سراغ لگانے استعمال کر سکتا ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے دو گمنام ارکان اور آخری رسومات کے انتظامات سے وابستہ ایک شخص کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 9 جولائی کو مشہد میں اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت اور مذہبی روایت کے مطابق تدفین کی رسومات ادا کرنے سکیورٹی حکام سے اجازت طلب کی تھی، تاہم سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی سیاست میں ایک پراسرار شخصیت سمجھے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے دورِ قیادت میں پس پردہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔28 فروری کو امریکہ۔اسرائیل مشترکہ حملوں کے بعد سے نہ وہ عوامی سطح پر دکھائی دیے اور نہ ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع ہے ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں ان کے والد سمیت متعدد اعلیٰ سیاسی اور فوجی رہنما ہلاک ہوئے تھے ، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ شدید زخمی ہوئے اور ممکنہ طور پر ان کا چہرہ بھی متاثر ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حملے میں ان کی اہلیہ اور بیٹے کی بھی موت ہوگئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق وہ رواں ہفتے تہران میں اپنی اہلیہ کیلئے منعقدہ تعزیتی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے ، جس کے بعد ان کی صحت اور موجودہ مقام پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عوامی منظرنامہ سے ان کی مسلسل غیر موجودگی نے ان کی قیادت کے استحکام سے متعلق خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے ۔ رپورٹ میں ایران کے چار سینئر حکام کے حوالے سے کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیر موجودگی کے باعث سیاسی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے ۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت صرف تحریری پیغامات کے ذریعہ رابطہ کر رہے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے امریکہ سے مذاکرات کی اجازت دی ہے ، تاہم ایران کے سخت گیر حلقوں کا مؤقف ہے کہ جب تک وہ خود عوامی بیان یا صوتی پیغام جاری نہیں کرتے ، وہ سفارتی عمل کی مخالفت جاری رکھیں گے ۔