آج بطور خاص دیواروں پر تصاویر کے بجائے آرائشی آئینوں کی اہمیت پر بات کرتے ہیں۔یہ آئینے مختلف خم، سٹائل اور ساخت کے دستیاب ہوتے ہیں۔یہ ذوقِ جمال کے دلکش پہلو ہیں جنہیں آئینوں سے رغبت ہوتی ہے وہ پرانا فرنیچر بیچنے والوں کے پاس بار بار چکر لگاتے ہیں تاکہ اگر کوئی جھروکا یا ایوان میں جڑا آئینہ دستیاب ہو سکے تو کیا بات ہے۔ کلاسیکی اور قدیم تہذیبی نقطہ نظر سے بنایا جانے والا فرنیچر آج بھی پالش کر کے استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اس میں کسی نہ کسی جگہ کچھ نہ کچھ جدت لانے کی کوششیں بھی اختیار کی جاتی ہیں۔مثال کے طور پر آج کل ڈارک ٹون میں فرنیچر پینٹ کیا جا رہا ہے اسی طرح آئینوں کی شبی ہیں بھی اب یکسر مغلئی یا دہلوی مکتبہ فکر سے میچ نہیں کر رہیں بلکہ خاتونِ خانہ کی اپنی انفرادی سوچ کے زاویے کو اہمیت دیتی ہیں۔ بازار میں ماڈرن اور کلاسیکی اور الٹر کلاسک ہر طرح کے آئینے دستیاب ہیں اور زاویوں میں افقی، عمودی، گولائی یا مستطیل آپ کسی بھی زاویے کے آئینے استعمال کر سکتی ہیں۔ہر گھر میں ایک نہ ایک ایسا گوشہ موجود ہوتا ہے جو نسبتاً تاریک یا بے رونق سا معلوم ہوتا ہے۔اس جگہ اگر آپ آئینہ نصب کرتی ہیں تو کمرے کی جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔عام طور پر مختصر رقبے کے مکانات یا فلیٹوں کی آرائش کیلئے آئینے ہی موثر دفاعی ہتھیار ہوتے ہیں کیونکہ ان سے کمروں میں کشادگی کا تاثر ملتا ہے تاہم چند نکات پیش نظر رہنا ضروری ہیں۔ آپ ہر جگہ ٹیبل لیمپس تو نہیں رکھ سکتیں نہ ہی ہر کمرے کی روشنیاں ہولڈر میں پرانی وضع قطع سے لگائی جا سکتی ہیں۔لائٹس کے قریب آئینے رکھے جائیں یا آویزاں کئے جائیں تو روشنی کے انعکاس کے بعد کمرے میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔اگر کھڑکی کے قریب آئینہ آویزاں کریں تو مقابل دیوار، راہداری یا باہر کا منظر آئینے سے جھانکتا بھلا لگے گا۔ اگر آئینہ دیوار کی پشت سے لگا کر کھڑا کر دیں تو چھت پر لگے فانوس کو فوکس کرے گا اور روشنیاں جلنے پر ہر شے منور ہوتی ہوئی اچھی لگے گی۔یہ قد آدم آئینے جو دیوار سے ملحق کر کے رکھے جاتے ہیں۔راہداریوں میں زیادہ بھلے معلوم ہوتے ہیں ۔یہ آئینے مختلف دھاتوں، کھڑکی اور پلاسٹک کے فریموں میں نظر آئیں گے۔یہ جتنے بڑے اور وسیع حجم کے ہوں گے اسی قدر کمرے روشن اور کشادہ نظر آئیں گے۔وسعت نظری کی تعریف پر پورا اترنے والے یہ آرائشی آئینے ہمارے گھروں کی ویرانی زائل کرنے کی خوبی رکھتے ہیں۔