رام پنیانی
ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا آغاز غیر جانبدارانہ پالیسی سے ہوا تھا یعنی ہندوستان سرد جنگ دور کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور سویت یونین (سویٹ روس) کے معاملہ میں خود کو غیر جانبدار رکھا تھا ان کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا۔ اس کے برعکس پاکستان شروع سے ہی امریکی منصوبوں کے تابع رہا اور امریکہ کے ساتھ رہا اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا اور جیسے جیسے پاکستان میں جمہوری نظام پر مسلم فرقہ وارانہ سیاست غالب آتی گئی اور وہاں امریکی سفیر، ملاؤں اور فوج کا کردار نمایاں ہوتا گیا جبکہ جمہوری سیاسی طاقتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں فوج نے ہمیشہ خود کو سیاسی امور اور سول حکومت کے معاملتوں میں مداخلت سے دور رکھا۔ اس کے بہ نسبت پاکستانی فوج سیاسی جماعتوں اور عوامی طور پر منتخبہ حکومتوں سے زیادہ بااثر اور زیادہ طاقتور رہی۔ آج بھی پاکستان کا یہ حال ہے کہ وہاں اسلام کے نام پر بنیاد پرستی غالب ہے اور فوج سب سے اہم کردار میں نظر آتی ہے۔ ایک کے بعد آئے ایک فوجی آمرہوں جمہوری طور پر منتخبہ حکومتیں ہر دور میں سیاسی امور میں فوج کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی جس کا اندازہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ظہرانہ (لنچ) پر مدعو کئے جانے اور بار بار ان کی تعریف و ستائش کئے جانے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے دیگر کئی عناصر یا عوامل بھی ہیں لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ہی موافق امریکہ رہی باالفاظ دیگر پاکستانی خارجہ پالیسی کی واضح پہچان امریکہ نواز ی رہی، طنزیہ اور مزاحیہ طور پر پاکستان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ پاکستان پر تین “A” حکمرانی کرتے ہیں، جس میں سے دو امریکی سفیر اور آرمی (فوج) ہے یہ ایک مبالغہ آمیز بات ہوسکتی ہے مگر یہ واضح ہوگیا کہ جب مذہب کے نام پر سیاست، سماجی منظرنامہ پر حاوی ہو جائے تو ایسی صورتحال ہمارے پڑوسی ملک (پاکستان) میں پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوستان نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں یا سپر پاورس کے سامنے نہ جھکنے کی اپنی راہ اختیار کی اور ہمہ جہت ترقی کی راہ اپنائی۔ مسٹر نکسن نے ہندوستان کو ایک طرح سے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ (ہندوستان) مشرقی پاکستان کے معاملات سے دور رہے حالانکہ اس وقت مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں پاکستانی فوج تباہی و بربادی مچا رہی تھی جس کے نتیجہ میں پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان میں داخل ہو رہی تھی۔ اندرا گاندھی نے بڑی جرأت و بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی صدر رچرڈ نکسن کا حکم ماننے سے انکار کردیا اس کی بجائے انہوں نے سویٹ روس کے ساتھ معاہدہ دوستی پر دستخط کئے حالانکہ اس وقت خلیج بنگال میں امریکی فوج کا ساتواں بحری بیڑہ پہنچ چکا تھا۔ امریکہ کی برہمی اور دھمکیوں کے باوجود ہندوستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی جارہی تباہی و بربادی روکنے مداخلت کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے شکنجہ سے مشرقی پاکستان آزاد کروانے میں مکتی باہنی کی بھرپور مدد کی جو مشرقی پاکستان کا استحصال کرنے کی کوشش کررہا تھا یہاں تک کہ اردو کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر نافذ کرنے کی پوری پوری کوشش بھی کی گئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے بنگالی بولنے والوں نے بغاوت کردی جبکہ ہندوستان امریکی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکا اور بڑی جرأت کے ساتھ مشرقی پاکستان کی آبادی کے تحفظ کے لئے آگے آیا، لیکن افسوس 2014 سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں بتدریج تبدیلی آئی اور ہندوستان نے خود کو امریکہ اور اسرائیل سے بہت قریب کرلیا۔ آج ہندوستان نے مودی حکومت میں اسرائیل سے گہرے اور قریبی تعلقات کو فروغ دیا ہے اور اس کے لئے ایران اور فلسطین کے ساتھ ہمارے ملک کے جو روایتی تعلقات تھے انہیں قربان کردیا گیا اور ان تعلقات کو نئی حکومت کی سیاسی ترجیحات کی خاطر قربان کیا جارہا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ ایک طرح سے جنگ چھڑ گئی جبکہ ہندوستان نے دعوی کیا کہ ہندوستان ۔ پاکستان جنگ بندی دونوں ملکوں کی بات چیت اور پاکستان کی درخواست پر کی گئی لیکن مودی جی جس ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے ہیں اس ڈونالڈ ٹرمپ نے بار بار اس بات کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے اور ان کے انتظامیہ نے دونوں ملکوں (ہندوستان اور پاکستان) کے درمیان جنگ بندی کروائی اور اس کے لئے معاشی دباؤ کی دھمکی دی اور ان کی وہ دھمکی کارکرد ثابت ہوئی۔ دونوں ملک جنگ بندی پر راضی ہوگئے اب تک ہندوستان میں پاکستان کو ہمیشہ دشمن نمبر ون کی حیثیت سے پیش کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہیکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عوام سے عوام کے درمیان پاک۔ انڈیا فورم کے ذریعہ رابطے بنے رہے۔ اس ضمن میں ہم خاص طور پر امن کی آشا پہل کا حوالہ دیں گے جو ہندوستان کے ٹائمز آف انڈیا اور پاکستان کے اخبار جنگ کے درمیان شروع ہوئی دلچسپی کی بات یہ ہیکہ اس وقت بھی حکومتی سطح پر الزامات وجوابی الزامات کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان سے متعلق آر ایس ایس اور بی جے پی کا موقف تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسٹر اٹل بہاری واجپائی نے اپنی دور وزارت عظمیٰ میں مسئلہ کشمیر جیسے مسائل حل کرنے لاہور تک بس یاترا کی اور پھر فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے جوابی دورہ ہند کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعطل برقرار رہا۔ اب آر ایس ایس میں دوسرے مقام پر براجمان لیڈر دتاتریہ بھوسالے کا بیان تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند لگتا ہے جو یقینا پاکستان کے بارے میں معمول کے موقف سے بالکل مختلف تاثر دیتا ہے حالانکہ سارک جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کی ایک بہترین کوشش کرتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو کشمیر ایک سلگتا مسئلہ ہے اور انتہا پسندوں کی سرگرمیوں سے اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ کشمیری عوام ہے۔ ان کشمیریوں کو پاکستان سے ہندوستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں سے بھی پریشانیوں کا سامنا رہا اور اب بھی ہے۔ دوسری طرف شہری علاقوں میں ایک طویل مدت سے فوج کی موجودگی سے بھی کشمیری پریشان ہیں۔ جہاں تک ہوشابلے کے بیان کا سوال ہے انہوں نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کی وکالت کی لیکن آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اسے اکھنڈ بھارت (متحدہ ہندوستان) کے آئیڈیا سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ویسے بھی ہندوستان پاکستان سے متعلق سارک کی کوششوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ سارک کے پہلے تجربہ کو بی جے پی حکومت نے زیادہ فروغ نہیں دیا اگر دیکھا جائے تو SAARC، جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان علاقائی تعاون و اشتراک کا ایک عظیم تجربہ تھا۔ ہوشابلے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دراصل آر ایس ایس کی پالیسی ہے لیکن ہند۔ پاک کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دینا ہند۔ پاک تعلقات میں سیاسی ماحول میں ایک الگ ہی معنی رکھتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وہ امریکہ کا دورہ کرکے آئے بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ ایسے نازک وقت میں یہ بیان ہوسکتا ہے کہ امریکی دباؤ میں دیا گیا ہو اس تعلق سے کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ہندوستان کی جانب سے امریکہ کی تابعداری میں اضافہ ہوا ہے۔