سال 2025 میں صد سالہ تقاریب، سالانہ اجلاس کا انعقاد
حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) ملک میں آر ایس ایس اپنے حلقہ اثر میں اضافہ کرتی جا رہی ہے اور نوجوان نسل آر ایس ایس کی رکنیت حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہواہے اوراکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان آر ایس ایس کی رکنیت کے حصول کیلئے درخواست داخل کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے سالانہ اجلا س کے دوران ہوئے انکشاف میںیہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2017تا2022 کے دوران 7لاکھ 25 ہزار سے زائد نوجوانوں نے آر ایس ایس کی ویب سائٹ پر موجود رکنیت کے لنک کو کلک کرتے ہوئے اپنی تفصیلات درج کروائی ہیں اور آر ایس ایس کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست داخل کی ہے۔ذرائع کے مطابق آر ایس ایس کی رکنیت کیلئے درخواست داخل کرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق 20 تا 35 سال کی عمر کے نوجوانوں سے ہے۔ ملک میں آ رایس ایس کی رکنیت کے سلسلہ میں سال 2016 کے دوران منظر عام پر آئے اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں آر ایس ایس کے ارکان کی جملہ تعداد 60لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور ملک بھر میں 59ہزار شاکھائیں چلائی جا رہی ہیں لیکن اس میں اب تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ 2020 تک شاکھاؤں کی تعداد بڑھ کر 62ہزار491 تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ سال میں اس میں مزید اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ سال 2025 میں آر ایس ایس اپنی صد سالہ تقاریب کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ آر ایس ایس کے سالانہ اجلاس کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس وباء اور لاک ڈاؤن کے بعد ملک میں آر ایس ایس کی شاکھاؤں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد اب 68 ہزار651 تک پہنچ چکی ہیں۔ آر ایس ایس اپنی صد سالہ تقاریب سے قبل اپنے ارکان کی تعداد کو ایک کروڑ تک پہنچانے کے منصوبہ کے ساتھ کام کر رہی ہے لیکن تنظیم کے سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ آر ایس ایس کی رکنیت کا حصول آسان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان نسل میں دیکھی جارہی تبدیلیوں اور ان کے نظریات کو دیکھتے ہوئے اس نشانہ کا حصول بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ آر ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس میں ملک بھر سے آر ایس ایس کے سرکردہ کارکنوں اور محاذی تنظیموں کے ذمہ داروں کوبھی مدعو کیا گیا ہے ۔ م
آئندہ سال کے اوائل مجوزہ عام انتخابات اور ملک کی مختلف ریاستو ںمیں جاری سال کے دوران انتخابات کے پیش نظر اس اجلاس کی اہمیت میںاضافہ ہوچکا ہے۔