آزادی ، غذا اور ایندھن

   

پی چدمبرم
سابق مرکزی وزیر داخلہ و وزیر فینانس

اکثر لوگ یہی سوچتے ہوں گے کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیوں ہوتے ہیں ؟ آخر عوام سڑکوں پر کیوں اتر آتی ہے ؟ اور آخر کیوں وہ تشدد برپا کرنے لگتی ہے (جیسا کہ آج دنیا کے کچھ ملکوں میں ہورہا ہے ) ۔ اس کا جواب یہ ہیکہ جب عوام کو آزادی ، غذا ، فیول یا کسی دوسری بنیادی ضرورت سے محروم کردیا جاتا ہے تو وہ احتجاج پر اتر آتے ہیں ، خود ہمارے ملک میں آج جو کچھ ہورہا ہے اس کی وجوہات بھی یہی ہیں ۔ لوگوں سے ان کی ہر قسم کی آزادی چھیننے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ، خاص کر اظہار خیال کی آزادی اور مذہبی آزادی سے انہیں محروم کیا جارہا ہے ۔ مہنگائی آسماں کو چھونے لگی ہے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ بالخصوص خوراک یا غذائی اشیاء اس قدر مہنگی ہوگئں ہیں کہ عام ہندوستانی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا جہاں تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا سوال ہے سب جانتے ہیں کہ 2014ء کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ۔ بہرحال اگر عوام کو حکومتیں بنیادی سہولتوں سے محروم کریں گی اور ان کی آزادی کو سلب کرنے کے اقدامات کریں گی تو لازم ہیکہ لوگ حکومتوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور بالخصوص نوجوان سڑکوں پر نکل آئیں گے اور احتجاج کریں گے ۔ مثال کے طور پر فرانس ، البانیہ ،بلجیم ، برازیل ،چلی ، اٹلی ، مراقش اور پرتگال اور ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں ایسا ہی ہورہا ہے اور ان احتجاجی مظاہروں میں نوجوان سب سے آگے ہیں۔ امریکہ جیسے ملکوں میں لوگ مہنگائی کو لیکر پریشان ہیں ، وہاں لوگ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ غذائی اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ وہ ان کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں جبکہ امریکی عوام کو ایندھن کی قیمتوں کے بڑھ جانے پر بھی پریشانی لاحق ہوگئی ہے اور اس مہنگائی کیلئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے انتظامیہ کو ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے ۔
اب چلتے ہیں فرانس جہاں عوام اسکولس کی ناقص سہولتو ں اور ٹیچروں کی کمی کے باعث معیاری تعلیم سے محرومی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور اس کیلئے فرانسیسی صدر ایمانیول مائیکرون کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔ البانیہ میں عوامی احتجاج کی وجہ یہ ہیکہ حکومت نے ایک قیمتی آبی ماحولیاتی نظام کو امریکی سرمایہ دار کے حوالے کردیا ۔ عوام اسے تجارتی استحصال قرار دے رہے ہیں ، اس کیلئے ایڈی رام کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ آپ کو یاد لادوں کہ یہ احتجاجی مظاہرے ایسے ہی ہیں جیسے نمک پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا ۔ نمک پر محاصل عائد کرنے سے کسی شخص کی آزادی براہ راست محدود نہیں ہوتی لیکن نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے نمک پر ٹیکس عائد کرنے کا تصور بابائے قوم مہاتما گاندھی کے آزادی کے نظریہ کیلئے ناقابل قبول تھا ۔
ناقابل یقین بے حسی : جہاں تک حق رائے دہی کا سوال ہے ایک آزاد ملک میں ووٹ دینے کا حق یقیناً شہری کا سب سے بڑا اور قیمتی حق ہے ۔ راقم الحروف کو یقین نہیں آتا کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اس قدر بے حس ہوسکتی ہے کہ اس نے یہ سمجھ لیا کہ 26 ریاستو ں کی فہرست رائے دہندگان سے ایک کروڑ 33لاکھ ( جو بالغ آبادی کا 14فیصد حصہ بنتا ہے) حذف کرنے سے احتجاجی مظاہروں کا طوفان نہیں اٹھے گا ۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ان ناموں کو ایک خصوصی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے حذف کیا گیا ہے لیکن کوئی بھی طریقہ کار اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک وہ منصفانہ اور قانونی طور پر جائز نہ ہو ۔ چھوٹ جانے کی اصطلاح حقیقت چھپانے ، حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔ ان لوگوں کے نام غیرقانونی طور پر حذف کئے گئے تھے ۔ آپ کو بتادوں کہ اب تک 26 ریاستوں میں ایس آئی آر کا تین مرحلوں میں اہتمام کیا گیا ۔ پہلے مرحلہ کے تحت ایک ریاست میں جس کی بالغ آبادی 8.21 کروڑ تھی ، وہاں فہرست رائے دہندگان سے 0.65 کروڑ ناموں کو حذف کیا گیا جس کا مطلب یہ ہیکہ جملہ رائے دہندوں میں سے 7.92 فیصد ناموں کو حذف کردیا گیا ۔ دوسرے مرحلہ کے تحت 9 ریاستوں میں ایس آئی آر کا اہتمام کیا گیا جن کی بالغ آبادی 51.60 کروڑ ہے ، ان میں سے 6.50 کروڑ یعنی جملہ رائے دہندوں کا 12.6 فیصد حصہ حذف کردیا گیا ۔ تیسرے مرحلہ کے ایس آئی آر میں 16 ریاستوں کا احاطہ کیا گیا جن کی بالغ آبادی 35.50 کروڑ بتائی گئی ان میں سے 6.15 کروڑ لوگوں کے نام حذف کئے گئے جو جملہ رائے دہندوں کا 17.18 فیصد حصہ بنتا ہے ۔ اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایس آئی آر پرکتنے کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ؟ اور فہرست رائے دہندگان میں ناموں کے دوبارہ اندراج پر کتنے کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے اور اضافی مصارف کیلئے کس کو سرچارج کیا جائے گا ۔ آپ کو بتادیں کہ سارے ایس آئی آر عمل کو کئی بنیادوں پر سپریم کورٹ میں جامع طور پرچیلنج کیا گیا اور عدالت نے نوٹس بھی جاری کی ۔دوسرے دن الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک اہم موڑ لیا یعنی الگ موقف اختیار کرتے ہوئے مابقی ریاستوں کیلئے ایس آئی آر کا منصوبہ ترک کردیا اور روایتی ایس آئی آر کی طرف واپس آگیا ۔ یہی وہ اعتراف ہے جس کا راقم الحروف نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ صرف مغربی بنگال میںجن لوگوں کے نام حذف کئے گئے انہیں سپریم کورٹ میں اپیلیس دائر کرنے کی اجازت دی گئی اور جو 22لاکھ اپیلیں دائر کی گئیں ان میں اندرون 6 ماہ تقریباً 1,26,000 اپیلوں کو نمٹا دیا گیا یعنی 91.93 فیصد اپیلوں کو اجازت دی گی اور ناموں کو فہرست رائے دہندگان میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی لیکن وہ حال ہی میں منعقد ہوئے اسمبلی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکے ۔ دیگر مقامات پر حذف کئے گئے کروڑوں نام ( جن میں متوفی رائے دہندوں کے نام شامل نہیں ) کیلئے اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، وہ اس وقت تک کسی بھی الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال سکتے جب تک ان کے ناموں کا دوبارہ اندراج عمل میں نہیں آتا اور جہاں تک ناموں کے دوبارہ اندراج کا سوال ہے یہ الیکشن کمیشن کے رحم پر ہے ۔
حقوق کیلئے لڑائی، یہ کوئی عام قسم کا احتجاج نہیں ہے بلکہ یہ آزادی اور ووٹ کے حق ( حق رائے دہی) کی لڑائی ہے ۔ اگلی لڑائی خوراک یا غذا کیلئے ہوگی ۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ، اس طرح غذائی اشیاء عام ہندوستانیوں کے دسترس سے باہر ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ حکومت 80 کروڑ لوگوں کو 5 کیلو گرام اناج مفت فراہم کرتی ہے لیکن کئی کروڑ افراد خاص کر اندرون ملک ، ملک سے ہجرت کرنے والے مزدوروں کو یہ مفت اناج نہیں مل پاتا ۔ اگر غذائی اشیا کی بڑھتی قیمتوں کا تقابل اس حقیقت سے کیا جائے کہ غیر ہنرمندر اور یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں کی حقیقی اجرتیں جمود کا شکار ہیں یا کم ہوگئی ہیں جبکہ مزدور ملک کی مجموعی افرادی قوت کا 20 فیصد ہیں تو ان کی مشکلات کی شدت واضح ہوجائے گی ۔ دوسری جانب ایک اور لڑائی بھی سرابھار رہی ہے اور وہ ہے سستے پٹرول و ڈیزل کی لڑائی مثال کے طور پر پٹرول ، ڈیزل ، برقی ، گیس ، مٹی کا تیل ، لکڑی اور بس ، ٹرین یا طیاروں کے ذریعہ سفر سب کے سب مہینگے ہوگئے ۔ ڈبلیو پی آئی کی تازہ ترین شرح 11.39 فیصد اور سی پی آئی کی شرح 5.54 فیصد اور خوراک کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح 7.74 فیصد بھی قیمتو ں میں اضافہ کی گئی بیرونی وجوہات ہیں مثال کے طور پر جنگیں اور ٹیرف لیکن حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے ۔