آسارام باپو کی سزا برقرار، فوری سرینڈر کا حکم

   

نئی دہلی 27 مئی:(ایجنسیز) راجستھان ہائی کورٹ نے خود ساختہ سادھو آسارام باپو کو 2013 کے نابالغ لڑکی سے زیادتی کیس میں سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے آج ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر سرینڈر کرنے کا حکم دیا۔جودھپور بنچ کے جسٹس ارون مونگا اور جسٹس یوگیندر کمار پروہت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آسارام باپو کے خلاف نابالغ سے زیادتی کے الزامات ثابت ہوتے ہیں، اسی لیے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رہے گی۔ عدالت نے تاہم اجتماعی زیادتی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات میں آسارام باپو کو راحت دیتے ہوئے بری کردیا۔ عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی سمیت بعض الزامات ختم کرنے کا بھی حکم دیا۔ فیصلے کے مطابق عدالت نے آسارام باپو کو تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار برقرار رکھا۔
جن میں غیر قانونی قید، دھمکی دینا، جنسی ہراسانی اور خاتون کی عزت مجروح کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ پوکسو ایکٹ اور جووینائل جسٹس ایکٹ کی دفعات بھی برقرار رکھی گئیں۔ادھر عدالت نے شریک ملزمان شلپی عرف سنچیتا گپتا اور شرت چندر کو بری کردیا۔ دونوں کو ٹرائل کورٹ نے پہلے 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔متاثرہ لڑکی کے وکیل پی سی سولنکی نے فیصلے کے بعد کہا کہ عدالت نے آسارام باپو کی سزا پر کوئی روک نہیں لگائی اور عمر قید کا حکم بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق شریک ملزمان کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔